دار الإفتاء

یوٹیوب پر قرآن مجید کی ویڈیو، آڈیو یا نظم وغیرہ اپلوڈ کرنا

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یوٹیوب کی جو کمائی ہے اس کے متعلق بعض علماء کہتے ہیں جائز ہے اور بعض کہتے کہ یہ ناجائز ہے حرام ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک بندہ قرآن پاک کی آڈیو ہو یا ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ کرتا ہے یا نظم وغیرہ یا بیان وغیرہ، پھر اس کے بعد اس پر جو معاوضہ اور اجرت ملتی ہے جو اس کی کمائی ہے یہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو کن وجوہات کی بنا پر اور اگر جائز ہے تو کن وجوہات کی بنا پر تفصیل کے ساتھ آپ رہنمائی فرمائیں۔

الجواب

واضح رہے کہ یو ٹیوب کے استعمال کرنے میں بہت سارے معاصی اور گناہوں کا ارتکاب لازم آتا ہے، مثلا : جاندار کی تصاویر، اسی طرح ویڈیوز بنانے والے کے چینل پر مختلف قسم کی بے پردہ عورتیں، میوزک، موسیقی اور ناجائز اور حرام کاموں کی تشہیر کی جاتی ہے، اور یو ٹیوب کے استعمال سے مذکورہ بالا تمام گناہوں میں معاونت ہے، جو نا جائز ہے، لہذا یوٹیوب پر قرآن مجید یا نظم و غیرہ کی اپلوڈ کی ہوئی ویڈیوز پر کمائی کرنا جائز نہیں، قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کے اور بھی بہت سارے ذرائع ہیں، لہذا انہی کو اختیار کریں، یوٹیوب کے استعمال سے بچا جائے۔ لما في التنزيل العزيز: [وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ]. (سورۃ المائدة : 2) وفي صحيح البخاري. حدثنا آدم حدثنا ابن أبي ذئب حدثنا سعيد المقبري عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’يأتي على الناس زمان لا يبالي المرء ما أخذ منه أمن الحلال أم من الحرام؟‘‘. (كتاب البيوع، باب من لم يبال من حيث كسب المال: 331/1، رقم الحدیث:2025، دار السلام) وفي الدر مع الرد: ’’ومن السحت ما يؤخذ على كل مباح كملح وكلا... ومسخرة وحكواتي، وأصحاب معازف وقواد وكاهن ومقامر وواشمة وفروعه كثيرة‘‘. ’’ قوله: (ومسخرة) أو المضحك للناس أو يسخر منھم أو يحدث الناس بمغازي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه، لا سيما بأحاديث العجم مثل رستم واسبنديار ونحوهما‘‘. (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع: 699/9، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: