
بارڈر کراس کروانے پر پيسے لينا اور رشوت كی تعريف
السؤال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ كا باڈرى گىٹ بند ہے، جس كى وجہ سے كاروبار بھى بند ہے اور لوگوں كى سركارى نوكرى ىا كوئى دوسرا كاروبار بھى نہىں ہے، تو لوگ كسى ثالث كے ذرىعہ سے محافظ باڈر سے راستہ بنوانے كے لىے كچھ پىسے دے كر بات كرتے ہىں، تو رات كے وقت باڈر پار كر كے رزق وروزى كى تلاش كرتے ہىں، اس مىں مصروف تىن قسم كے لوگ ہوتے ہىں: ۱ ثالث: راستہ بنانے والا(پىسے لىنے والا) ۲ محافظ باڈر: (پىسے لىنے والا) ۳ كاروبار والے پىسے دىنے والے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا یہ کام شرىعت كى رو سے ىہ جائز ہے كہ نہىں؟اور كىا رشوت كى ىہ تعرىف کہ: ’’ دوسرے كا حق دبا كر اپنا حق ثابت كىا جائے‘‘ درست ہے؟
الجواب
واضح رہے كہ مباح امور مىں حكومت وقت كے اطاعت ضرورى ہے، جب تك دىن كے خلاف كوئى حكم نہ دے، لہذا صورت مسئولہ مىں (ثالث)اور(باڈر محافظ)كے لىے باڈر سے گزارنے پر پىسے لىنا اور اسى طرح ان كو پىسے دىنا بھى جائز نہىں ہے۔ رشوت كى مذكورہ تعرىف درست نہىں ہے، فقہ كى اصطلاح مىں رشوت’’ وہ مال ہے جو كسى كے حق كو باطل كرنے كے لىے ىا كسى باطل كو حاصل كرنے كے لىے دىاجائے‘‘۔ لما في روح المعاني: ’’[يأيها الذين آمنوا] بعد ما أمر سبحانه ولاة الأمور بالعموم أو الخصوص بأداءالأمانة والعدل في الحكومة أمر الناس بإطاعتهم في ضمن إطاعته -عز وجل- وإطاعة رسوله -صلى الله عليه وسلم- ثم إن وجوب الطاعة لهم ما داموا على الحق فلا يجب طاعتهم فيما خالف الشرع.... وهل يشمل المباح أم لا؟ فيه خلاف فقيل: إنه لا يجب طاعتهم فيه لأن لا يجوز لأحد أن يحرم ما حلله الله تعالى ولا أن يحلل ما حرمه الله تعالى وقيل: تجب أيضًا كما نص عليه الحصكفي‘‘. (6/ 109-104، مؤسسة الرسالة) وفي التنوير مع الدر: ’’(ومن دعاه الإمام إلى ذلك) أي: قتالهم (افترض عليه إجابته) لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض‘‘. (كتاب الجهاد: 404/6، رشيدية) وفي الموسوعة الفقهية: ’’والرشوة في الاصطلاح: ما يعطي لإبطال حق، أو لإحقاق باطل‘‘. (رشوة: 220/22، مكتبه علوم الإسلامية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى:
