Dar-ul-Ifta

قرىہ كبىرہ اور ضرورىات ىومىہ كا مصداق

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عصر حاضر مىں قرىہ كبىرہ اور ضرورىات ىومىہ كا مصداق كىا ہوگا؟

Answer

واضح رہے كہ قرىہ كے كبىرہ اور صغىرہ ہونے كا مدار عرف پر ہے، البتہ اگر كسى قرىہ مىں مصر كے اوصاف پائے جاتے ہوں تو اس پر قرىہ كبىرہ كا اطلاق ہوگا، ىعنى اس مىں مختلف گلى كوچے ہوں، بازار ہو، آپس كے اختلافات اور تنازعات كو ختم كرنے كے لىے حكومتى ىا پنچائىت كا نظام ہو، وہاں كى آبادى تقرىبا چار ہزار ىا اس سے زىادہ ہو مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، سڑكىں ہوں، اور اىسا بازار ہو جس مىں چالىس پچاس دكانىں متصل ہوں اور روزانہ بازار لگتا ہو جس مىں روز مرہ كى ضرورىات مثلا: غلہ، كپڑا، جوتا، دوا، برتن، دودھ اور گھى ودىگر اشىائے خورد ونوش موجود ہوں، علاج ومعالجہ كے لىے ڈاكٹر كى سہولت، پولىس كا تھانہ ىا چوكى ہو، ضرورى پىشہ افراد مثلا: معمار، مسترى، درزى، بڑھئى، موچى، مكىنك، لوہار، سنار اور قصاب وغىرہ موجود ہوں۔ نیزاسى طرح مدرسہ، اسكول، جىد عالم دىن اور آس پاس كے دىہات اپنى ضرورىات وہاں سے پورى كرتے ہوں۔ لما في إعلاء السنن: ’’فأصح الحدود ما صرح بہ في تحفة الفقھاء عن أبي حنيفة رحمہ اللہ أنہ بلدة كبيرة فيھا سكك وأسواق، ولھا رساتيق، وفيھا والِ يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ أو علم غيرہ يرجع الناس إليہ فيما يقع من الحوادث، وھذا ھو الأصح انتھى..... وأيضًا فإن المصر والقرية كلاھما حقيقة عرفية قد تميز مصداق كل منھما عن الآخر عند أھل العرف في كل زمان‘‘. (عدم جواز الجمعة في القرى: 10/8، إدارة القرآن والعلوم الإسلامية) وفي الدر مع الرد: ’’(ويشترط لصحتھا) سبعة أشياء:الأول: (المصر وھو ما لا يسع أكبر مساجدہ أھلہ المكلفين بھا)..... وظاھر المذھب أنہ كل موضع لہ أمير وقاض قدر على إقامة الحدود كما حررناہ فيما علقناہ على الملتقى. وفي القھستاني، وتقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيھا أسواق‘‘. (كتاب الصلاة، باب الجمعة: 8/3، مكتبہ رشيدية) وفي عمدة القاري: ’’ثم اختلف أصحابنا في المصر الذي تجوز فيہ الجمعة، فعن أبي يوسف: ھو كل موضع يكون فيہ كل محترف، ويوجد فيہ جميع ما يحتاج إليہ الناس من معايشھم علاة، وبہ قاض يقيم الحدود‘‘. (كتاب الجمعة، 271/6، مكتبہ دار الكتب العلمية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: