Dar-ul-Ifta

جمعہ میں سندھی زبان میں خطبہ دینے کی شرط لگانے کا حکم

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بریلوی حضرات کی مسجد میں غیر عربی (سندھی) میں خطبہ ہوتا ہے، محلہ کے چند لوگ اپنے عقائد کے ہیں، ان حضرات نے ترغیب چلا کر ان بریلویوں کو دیوبندی عالم کے جمعہ کے دن وعظ ونصیحت کے لیے آمادہ کردیا ہے، لیکن بریلوی حضرات کی شرط یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ غیر عربی (سندھی) میں دے تو آئے وگر نہ نہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا وہ عالم غیر عربی میں خطبہ دے سکتا ہے، اگر وہ چند آیات قرآن مجید کی پڑھ کر پھر غیر عربی میں خطبہ کو مکمل کرے تو یہ جائز ہے یا نہیں یا اس کے علاوہ کوئی جانے کی صورت ہو تو رہنمائی فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

Answer

صورت مسئولہ میں مذکورہ امام کے لیے غیر عربی زبان (سندھی) میں خطبہ دینا مکروہ تحریمی ہے۔ اگر چند آیات قرآن مجید کی پڑھ کر پھر غیر عربی زبان (سندھی) میں خطبہ کو مکمل کرتا ہے، تو یہ خطبہ اور جمعہ کے درمیان فصل کا باعث ہے جو کہ خلاف سنت ہے۔ البتہ اگر کوئی وعظ، نصیحت، یا دین کے ضروری عقائد واحکام بیان کرنا مقصود ہو تو وہ خطبہ سے پہلے یا جمعہ کے بعد بیان کردیا کریں۔ لما في مجموعة رسائل اللكنوى: ’’فإذا لم يفھم الحاضرون الخطبة العربية فإلزام عدم الفھم عائد إليھم لا إلى الخطباء، ولا يلزم للخطباء أن يغيروا لسان العربي، وخطبوا بلسان يفھم الجھلاء‘‘. (رسالة في أداء الأذكار بلسان الفارس: 47/4، إدارة القرآن کراچی) ( وكذا في المصفى شرح المؤطا : باب التشديد على من ترك الجمعة من غير عذر، ص:154، كتب خانہ رحيمية، دهلی) وفي بذل المجھود: ’’قال الطيبي رحمه الله تعالى: فيه دليل على جواز التكلم على المنبر، وعندنا كلام الخطيب في أثناء الخطبة مكروه إذا لم يكن أمرا بالمعروف‘‘. (كتاب الصلاة، باب الإمام يكلم الرجل الخ: 181/2، امدادية ملتان) وفي الدر المختار: ’’ويكره تكلمه فيھا إلا لأمر بالمعروف؛ لأنه منھا‘‘. (كتاب الصلاة، باب الجمعة: 149/2، سعيد). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: 181/135