
بیک وقت نماز کے تمام کفارے ادا کرنے کی استعداد نہ ہو تو حکم
Question
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ورثاء اپنے مرحوم کی طرف سے بیک وقت تمام قضاء شدہ نمازوں کے کفارے کی استعداد نہیں رکھتے، تو کیا مہینے یا سال کے حساب سے تھوڑا تھوڑا ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
اگر ورثاء بیک وقت تمام قضاء شدہ نمازوں کا کفارہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، تو تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کر سکتے ہیں، مگر اس میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایک وقت میں ایک کفارے سے کم ادائیگی نہ ہو۔ لما في البحر الرائق: ’’إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة وأوصى بأن يعطى كفارة صلاته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع وإنما يعطى من ثلث ماله‘‘. (كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، 160/2، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.: 179/129
;" > نماز
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
