Dar-ul-Ifta

امام كو فی نماز كے حساب سے اجرت دينے کا حکم

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ كىا مسجد كے امام كو فى نماز كے حساب سے اجرت دىنا اور اس كا حساب لگانا جائز ہے؟ اور اىسے امام كى اقتداء مىں نماز ادا ہوجاتى ہے؟ (كمىٹى كى جانب سےتنخواہ كاحساب كچھ ىوں لگا ىا گىا کہ اىك وقت كى نماز 166، اىك دن مىں كل نمازىں پانچ جس كى کل رقم 833روپے، كل دن 30، كل تنخواہ25000، بیس ہزار روپے كىش ان ہىنڈ اور 5000 گھر كا كراىہ۔ (نوٹ: مسجد امام كا دعوى ىہ بھى ہے كہ كمىٹى كى جانب سے كہا گىا تھا كہ تنخواہ بیس ہزار ہے، اور گھر كا كراىہ نہىں كىا اىسے مىں مسجد كمىٹى كو 5000 كے حساب سے رقم دىنى ہوگى جتنے سال امام صاحب رہے ىا نہىں؟)

Answer

واضح رہے كہ امامت اىك عقد اجارہ ہے، اور اس مىں امام اور كمىٹى كے درمىان جو رقم طے پائى ہو، وہى لازم وضرورى ہے، نىز امام مسجد اگر اپنے دعوى مىں سچے ہىں، تو كمىٹى والوں پر لازم ہے كہ وہ امام مسجد كو ان كا حق پورا كر كے دىں۔ لما في الدر: ’’(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان‘‘. (باب ما يجوز من الإجارة وما يكون خلافًا فيها: 55/6، دار الفكر). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: