دار الإفتاء

چھپکلی پانی میں گر جائے تو اس پانی سے طہارت کا حکم

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر چھوٹے حوض میں (جس کی پیمائش دہ در دہ یعنی 1225 اسکوائر فٹ دے کم ہو) چھپکلی گر کر مرجائے، البتہ پھولے پھٹے نہیں تو اس حوض سے حاصل کردہ طہارت سے پڑھی گئی نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟

الجواب

اگر چھپکلی بڑی ہو اور اس میں بہتا ہوا خون ہو تو اس کے حوض میں گر کر مرنے کی وجہ سے پانی ناپاک ہوجائے گا اور اس پانی سے کیے گئے وضو سے ادا کی جانے والی تمام نمازوں کا اعادہ واجب ہوگا، لیکن اگر چھپکلی چھوٹی ہو جیسا کہ عام طور سے گھروں میں رہنے والی چھپکلیاں ہوتی ہیں تو چونکہ ان میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا لہذا ان کے گر کر مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا۔ قال في الحلبي الكبير: ’’وكذا الوزغة إذا كانت كبيرة، أي: بحيث يكون لها دم فإنها تفسد الماء.إلخ‘‘.(غنية المتملي شرح منية المصلي، فصل في البئر: 315/1، دار الكتب بشاور) قال في الشامي: ’’كالحية البرية الوزغة لو كبيرة لها دم سائل عنه‘‘.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، مطلب حكم سائر المائعات كالماء في الأصح: 367/1، رشيدية). فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: 06/168