دار الإفتاء

ری سائیکل پانی اور جس پانی سے بدبو آتی ہو اس سے وضو کا حکم

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری کمپنی میں آر–او واٹر پلانٹ اور ری سائیکل واٹر پلانٹ دونوں پلانٹ کا مکس پانی دھلائی اور وضو کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس پانی کا رنگ صحیح ہے، لیکن پانی میں کڑواہٹ اور بدبو ہے، اس بارے میں ہماری راہ نمائی فرمائیں کہ آیا ایسے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں؟ کراچی واٹر بورڈ لائن کا پانی روزانہ جو آتا ہے وہ ہےاڑتالیس لاکھ ستانوے ہزار دو سو گیلن ہے،واٹر ٹینگر سے ایک لاکھ پینسٹھ ہزار گیلن پانی لیتے ہیں،آر-او پلانٹ کا پانی اڑتیس ہزار گیلن اور ری سائیکل پلانٹ کا پانی ایک لاکھ پینسٹھ ہزار گیلن ہے۔ وضاحت: ری سائیکل وہ پاک پانی ہے، جس کے ذریعہ مشینوں کو صاف کیا جاتا ہے، پھر اسی پانی کو مشینوں کے ذریعہ صاف کیا جاتا ہے، پانی میں بد بو کیمیکل یا زیادہ ٹھہرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

الجواب

صورت مسئولہ میں اگر مشینیں پاک ہوں اور ان پر نجاست نہ ہو اور ری سائیکلنگ کے لیے استعمال شدہ کیمیکل بھی نجس نہ ہو،تو مذکورہ پانی نہ مستعمل ہے اور نہ ہی نجس، اس لیے ایسے پانی سے وضو جائز ہے۔ لما في التنوير مع الدر: ’’(وينجس) الماء القليل (بموت مائي معاش بري مولد( في الأصح... (وبتغير أحد أوصافه) من لون، أو طعم، أو ريح (بنجس) الكثير ولو جاريا إجماعا أما القليل، فينجس وإن لم يتغير خلافا لمالك (لا لو تغير) طول (مكث) فلو علم نتنه بنجاسة لم يجز ولو شك فالأصل الطھارة‘‘. (كتاب الطھارة، باب المياه: 367/1، رشيدية) وفيه ايضا: ’’فلو توضأ متوضئ لتبرد.... لم يصر مستعمل اتفاقا كزيادة على الثلاث بلا نية قربة، وكغسل نحو فخذ، أو ثوب طاهر، أو دابة تؤ كل‘‘. (كتاب الطھارة: 387/1، رشيدية) وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ” قوله: (ومن حوض يخاف أن يكون فيه قذر) ولو كان متغيرا منتنا؛ لأن ذلك قد يكون بطاهر، وقد يكون بالمكث“. (كتاب الطھارة، ص:28، رشيدية) وفيه ايضا: ’’ تنبيه: مثل تعارض الخبرين الشك وقالوا: إن الشك على ثلاثة أضرب: شك طرأ على أصل حرام، وشك طرأ على أصل مباح، وشك لا يعرف أصله، فالأول: مثل أن يجد شاة مذبوحة في بلد فيھا مسلمون، ومجوس، فلا تحل حتى يعلم أنھا ذكاة مسلم... والثاني: أن يجد ماء متغيرا واحتمل أن يكون تغيره بنجاسة، أو طول مكث يجوز التطھير به عملا بأصل الطھارة‘‘. (كتاب الطھارة، ص:35، رشيدية) وفي البحر: ’’(فروع) في الخلاصة معزيا إلى الأصل يتوضأ من الحوض الذي يخاف فيه قذرا ولا يتيقنه... وكذا إذا وجده متغير اللون، والريح، ما لم يعلم أنه من نجاسة؛ لأن التغير قد يكون بظاهر وقد ينتن الماء للمكث‘‘.(کتاب الطھارة: 157/1، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: 181/176