
پاک پانی میں ہاتھ ڈالنے کا حکم؟
السؤال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاف وپاک پانی میں بعض دفعہ بچے ہاتھ ڈال دیتے ہیں یا اپنا خود کا ہاتھ پڑ جاتا ہے،ایسی صورت میں کیا یہ پانی پینے کے کام آسکتا ہے اور اس سے غسل ووضوء کرنا جائز ہے یا نہیں جبکہ ہاتھ پاک ہو؟
الجواب
اگر ہاتھ یقینی طور پر پہلے نجس ہو ،تو پھر برتن میں وہ نجس ہاتھ ڈالنے سے پانی نجس ہوگا لیکن اگر ہاتھ کے نجس ہونے کا یقین نہیں ہے، تو صرف وہم کی بناء پر (کہ ہوسکتا ہے کہ ہاتھ نجس ہو) پانی ناپاک نہیں ہوگا، ہاں احتیاط اس میں ہے کہ دھونے کے بعد پانی میں ہاتھ ڈالا جائے۔فقط۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى:
;" > طہارت
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
‹كپڑوں پر خون ديكھا تو كب سے كپڑے ناپاك شمار ہوں گے؟‹حائضہ کا طواف زيارت سے قبل مسجد عائشہ جا كر عمره كی نيت کرنے کا حکم‹حائضہ عورت كے ليے بغير احرام کے میقات سے گزرنے كا حیلہ‹جدید یا عام واشنگ مشین کے پانی كا حكم؟‹بلی كا پيشاب كپڑے ميں لگ گیا تو اس كا حكم‹بال اكھيڑنے ميں اس كے آخر كی ترى اور چكناہٹ كا حكم
