دار الإفتاء

غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں چوکیدار مقرر کرنا

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسلمانوں کی قبرستان میں چوکیداری اور صفائی کے لیے کسی غیر مسلم کو چوکیدار بنایا جائے اور مسلمانوں میں کوئی بھی تیارنہیں ہے کہ وہ چوکیدار بنے ،ایسی صورت حال میں کسی غیر مسلم کو قبرستان کا چوکیدار بنانا کیساہے؟

الجواب

مسلمانوں کے قبرستان میں چوکیداری اور صفائی کے لیے غیر مسلم کو مقررکرنا جائز اور درست ہے۔ لما في الھندية: ’’وإسلامه ليس بشرط أصلاً، فتجوز الإجارة والإستئجار من المسلم والذمي والحربي والمستأمن‘‘. (كتاب الإجارة، الباب الأول في تفسير الإجارة، 440/4، دار الفكر) وفي البدائع: ’’وإسلامه ليس بشرط أصلاً، فتجوز الإجارة والاستئجار من المسلم والذمي والحربي والمستأمن، لأن هذا من عقود المعاوضات فيملكه المسلم والكافر جميعًا كالبياعات‘‘. (كتاب الإجارة، فصل في شرائط الركن، 527/5، رشيدية) وفي الفتاوى التاتارخانية: ’’وفي السراجية، ولا بأس بأن يستأجر المسلم الطئر الكافرة أو التي قد ولدت من الفجور‘‘. (كتاب الإجارة، الفصل جواز إجارة الظئر، 81/15، فاروقية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: