دار الإفتاء

شہنشاه نام ركھنے کا حکم

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مىں نے اپنے بىٹے كا نام ىو زار سىف ركھا ہے؟جو اىك مصرى نام ہے، جس كے نىٹ پر مختلف معانى ہىں، جن مىں اىك معنى بادشاہ/شہنشاہ/ بہت خوبصورت كے بھى ہىں، اسى طرح اىك مصرى ڈاكومىنٹرى مىں حضرت ىوسف علىہ السلام كو بھى انہوں نے ىوزار سىف كہا ہے۔ جب كہ اىك حدىث مىرے علم مىں آئى ہے كہ: شہنشاہ /بادشاہ نام نہىں ركھنا چاہئے، ىہ اللہ تعالى كو پسند نہىں ہے، مىں نے اپنے بچے كے سركارى كاغذات اسى وجہ سے نہىں بنوائے كہ اگر ىہ نام درست نہىں ہے، تو بروقت تبدىل كىا جاسكے، آپ حضرات كى خدمت مىں عرض ہے كہ آپ بھى اس نام پر اپنى تحقىق سے آگاہ فرما كر قرآن وسنت كى روشنى مىں مىرى رہنمائى فرمائىں كہ بچے كا ىہ نام (ىوزارسىف) ركھنا درست ہے ىا نہىں؟

الجواب

واضح رہے كہ ہمىں مصرى زبان پر عبور نہىں، كسى مصرى عالم سے اس كا معنى پوچھ لىا جائے، اگر مصرى زبان مىں اس كا صحىح معنى موجود ہے تو پھر ىہ نام ركھنا جائز ہے، لىكن اگر اس كا معنى صرف شہنشاہ كا ہے، تو پھر اس كے ركھنے كى گنجائش نہىں ہے۔ لما في مسند أحمد: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أغيظ رجل على الله يوم القيامة وأخبثه وأغيظه عليه رجل كان يسمى ملك الأملاك لا ملك إلا الله عز وجل». (مسند أبي هريرة: 222/8، رقم الحديث:8161، دار الحديث). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: 184/145