
خلاف شریعت بات میں والدین کی اطاعت کا حکم
السؤال
کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد صاحب ہماری بیویوں سے بکریوں کے بچے چرواتے ہیں، اور مویشیوں کے لیے چارہ ان عورتوں سے کٹواتے ہیں، وہی لاتی بھی ہیں، جبکہ ہمارا باغ ہمارے گھر سے تقریبا دو کلو میٹر دور ہے، اور ہمارے بھائی اس پرفتن دور میں اس کے لیے تیار نہیں ہیں، تو کیا اس صورت میں والد صاحب کی اطاعت لازم ہے یا نہیں؟ راہنمائی فرمائیں۔
الجواب
صورت مذکورہ میں اگر بے پردگی اور گناہ کا اندیشہ ہو، تو اس صورت میں والد کی اطاعت لازم نہیں ہے۔ لما في الدر مع الرد: ’’(وتمنع)المرأة الشابة (من كشف الوجه بين الرجال) لا لأنه عورة، بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشھوة؛ لأنه أغلظ‘‘. (كتاب الصلاة، مطلب في ستر العورة، 97/2، رشیدیۃ). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى:
معاملات و معاشرت
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
