دار الإفتاء

کسی عذر کی وجہ سے معاہدے کی خلاف ورزی کرنا

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی دو بیٹیاں ایک شخص کے بیٹوں کے ساتھ رشتہ کر وانے سے پہلے چند شرائط رکھیں تھی اور ان میں سب سے اہم اور پہلی بنیادی شرط یہ تھی کہ میری دونوں بیٹیاں شادی کے بعد 6 سالہ عالمہ کا کورس مکمل کریں گی، تو اس پر ان سب نے یہ شرط قبول کی تھی اور پھر کچھ عرصہ 6 سالہ کورس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں کی اور میری دونوں بچیاں میرے گھر میں ہی ایک معلمہ کے پاس پڑھنے کے لئے روزانہ آتی رہیں، لیکن اب میری بیٹی کے ایک شوہر نے بہانا بنانا شروع کیا ہے اور کہتا ہے کہ اب میں شوہر ہوں اور میر احق اور میری مرضی ہے، میں نہیں چھوڑوں گا جبکہ شادی سے پہلے اس شرط کو قبول کیا تھا اور ان بنیادی شرائط پر شادی ہوئی تھی ور نہ تین سال تک منت و سماجت کرتے رہے، میں ان کو رشتہ دینے کے لئے ہر گز بھی تیار نہیں تھا اور اب اس کے شوہر نے میری بیٹی کا آنا جانا بھی میرے گھر سے بند کر دیا ہے، جبکہ میرے گھر اور ان کے گھر کی دیوار ایک ہی لگتی ہے اور بیچ میں کھڑ کی بھی ہے، اور اب ایسے شخص کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے جو شادی سے پہلے شرائط کو قبول کرے اور شادی کے بعد کچھ دن کے لئے عمل بھی کرے پھر اس کے بعد ان شرائط کی خلاف ورزی کرے۔

الجواب

ایسا معاہدہ کرنا جس کی وجہ سے شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی لازم نہ آتی ہو، تو اس معاہدہ کی پاسداری لازم ہوتی ہے، اور بغیر عذر کے کوتاہی سے گناہ لازم آتا ہے۔ صورت مسئولہ میں آپ کا داماد کسی عذر کی وجہ سے معاہدہ پورا نہیں کر سکتا، تو آپ ان کی رعایت کریں، اور اگر ان کا کوئی عذر نہیں ہے اور نہ ہی گھر سے باہر تعلیم حاصل کرنے میں کسی فتنہ کا اندیشہ ہے، توان پر معاہدہ کی پاسداری لازم ہے۔ لما في التنزيل: [يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ.... الآيه].(المائده: 1) وفي تفسير القرطبي: ’’وقال الزجاج: المعنى أوفوا بعقد الله عليكم وبعقدكم بعضكم على بعض، وهذا كله راجع إلى القول بالعموم، وهو الصحيح في الباب [قال صلى الله عليه وسلم: المؤمنون عند شروطھم]‘‘. (سورة المائدة، الجزء السادس:7، دار الإحياء التراث) وفي إحياء علوم الدين: ’’حديث عبد الله بن عمرو (أربع من كن فيه كان منافقا الحديث متفق عليه) وهذا ينزل على عزم الخلف أو ترك الوفاء من غير عذر، فأما من عزم على الوفاء فعن له عذر منعه من الوفاء، لم يكن منافقا وإن جرى عليه ما هو صورة النفاق، ولكن ينبغي أن يحترز من صورة النفاق أيضا كما يتحرز من حقيقته، ولا ينبغي أن يجعل نفسه معذورا من غير ضرورة حاجزة‘‘. (کتاب آفات اللسان، الوعد الكذب: 152/3، دار الغد الجديد). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: