دار الإفتاء

جمعہ کے بعد سبحان اللہ وبحمدہ پڑھنے کا حکم

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کی نماز کے بعد ایک سو مرتبہ ”سبحان اللہ وبحمدہ“ پڑھتا ہے، اس کے والدین کے سو سالہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ كىا مندرجہ بالا عبارت یا اس کے قریب کوئی مفہوم معتبر کتب احادیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کرنا کیسا ہے؟

الجواب

صورت مسئولہ میں مذکور حدیث باوجود تلاش وبسیار کے نہیں ملی، لیکن اسی مفہوم کے قریب ایک روایت علامہ ابن سنی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”عمل الیوم واللیلۃ“ میں ذکر کی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے ”جو شخص جمعہ کے بعد سبحان اللہ العظیم وبحمدہ پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ایک لاکھ گناہ معاف فرماتے ہیں“ لیکن اس کی سند میں کئی راوی ایسے ہیں، جن پر محدثین نے کلام کیا ہے، علامہ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لا یصح (یعنی یہ حدیث صحیح نہیں ہے)، یہ روایت دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، لیکن کوئی سند جرح سے خالی نہیں ملی، لہذا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے اجتناب کیا جائے اور بلا کسی تعیین ثواب اور بغیر التزام کے اگر اس کو پڑھا جائے، تو کئی حرج نہیں ہے۔ لما في عمل اليوم والليلة: حدثنا محمد بن عمر بن خزيمة، حدثنا أبو سلمة يحي بن المغيرة حدثنا على بن سعيد، حدثنا سليمان بن عمران المذحجى، عن إسحاق بن إبراھيم عن أبي جمرة الضبعى، عن ابن عباس رضى الله عنھما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ’’من قال بعد ما يقضى الجمعة: سبحان الله العظيم وبحمده مائة مرة، غفر الله له مائة ألف ذنب، ولوالدية أربعة وعشرين ألف ذنب‘‘. (باب ما يقول بعد صلاة الجمعة:214، دار الزمان) وفي لسان الميزان: إسحاق بن ابراھيم، عن الزھري قال: ’’الشطرنج من الباطل مجھول قاله أبو حاتم، انتھى‘‘. (رقم الترجمه: 99، حرف الألف، 34/2، دار البشائر) وفي الجرح والتعديل: سليمان بن عمران: روى عن حفص بن غياث، روى عنه زھير ابن عباد الرواسى. قال أبو محمد: ’’دل حديثه على أن الرجل ليس بصدوق‘‘. (باب من روى عنه العلم ممن يسمي سليمان، 129/4، دار الكتب) وفي تنزية الشريعة: سليمان بن عمران عن حفص بن غياث قال ابن أبي حاتم: ’’دل حديثه على أنه ليس بصدوق‘‘. (فصل: في مرد أسماء الوضاعين والكذابين ومن كان يسرق الاحاديث ويقلب الاخبار ومن اتھم بالكذب والوضع، 65/1، دار الكتب). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: