دارالافتاء

كميٹی كے پیسوں كو ذاتی استعمال ميں لانے كا حكم اور ان كا صحيح مصرف

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے اپنى گلى مىں اىك كمىٹى بنائى تھى جس مىں ماہانہ چندہ ہوتا تھا گلى والوں سے، جس كے اخراجات روز مرہ كى گلى كى صفائى اور گلى كى اسٹرىٹ لائٹس كى تنصىب ومرمت اور ہفتہ وار گلى كے گٹروں كى صفائى ہوا كرتى تھى، ىہ معاملہ اىك سے ڈىڑھ سال تك چلا، لىكن اب ىہ كمىٹى مكمل طور پر ختم ہوچكى ہے لىكن مىرے پاس گلى كى اسٹرىٹ لائٹس كى مرمت كا چند سامان ابھى تك گھر مىں ركھا ہوا ہے، جس كى مالىت 500 تك ہوگى تو اب اس مال كا مىرے لىے كىا حكم ہے؟ ىہ مال مىرے پاس اىك سال سے زائد ركھا ہوا ہے كىا مىں اس كو اپنے لىے استعمال كرسكتا ہوں؟

جواب

صورت مسئولہ مىں مذكورہ اشىا بىچ كر اس كى قىمت اسى مصرف مىں استعمال كرىں، كسى اور مصرف مىں استعمال جائز نہىں ہے۔ لما في التنزيل: [وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ]. (سورة البقرة: 188) وفي الدر: ’’لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته‘‘. وتحته في الرد: ’’ وفي القنية: أخذ أحد الشريكين عمار صاحبه الخاص وطحن به فمات لم يضمن للإذن دلالة، قال: عرف بجوابه هذا أنه لا يضمن فيما يوجد الإذن دلالة وإن لم يوجد صريحًا‘‘. (كتاب الغصب: 334/9، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 185/349