دارالافتاء

اسٹيٹ ايجنسی والوں کا کمیشن لینے کا شرعی حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اسٹىٹ اىجنسى والے كرائے پر مكان دلواتے ہىں اور كمىشن لىتے ہىں وہ كمىشن لىنا درست ہے ىا نہىں؟

جواب

صورت مسئولہ مىں اسٹىٹ اىجنسى كا كام كرنا اور اس پر كمىشن لىنا درست بشرطىكہ كمىشن پہلے سے متعىن كىا جائے۔ لما في رد المحتار: ’’وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم، وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به، وإن كان في الأصل فاسدًا لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام‘‘.(كتاب الإجارة، مطلب في أجرة الدلال: 107/9، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: