دارالافتاء

2139 ايپ ميں پيسے سرمایہ کاری کرنے کاحکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اىك اىپ ہے جس كا نام 2139 ہے، اس مىں پىسے لگائے جاتے ہىں، شروع مىں 30 سے 50 ہزار تك لگاتے ہىں، اور پھر دن مىں دو مرتبہ سگنل آتا ہے، اىك دوپہر (ڈھائى) بجے كے قرىب اور دوسرا رات (سات) بجے كے قرىب سگنل آتے ہىں، اس پر كلك كرنا پڑتا ہے 3 سے 4منٹ كے اندر اندر، كلك كرنے سے 5 ڈالر ملتے ہىں اور اگر كلك نہ كرىں تو 3 ڈالر ملتے ہىں، ىعنى كسى بھى صورت مىں نقصان نہىں ہوتا، اور آپ جب چاہىں اپنے پىسے واپس لے سكتے ہىں، اور جب بھى نكالىں گے اس كے بقدر نفع بھى لے سكتے ہىں، اب آپ حضرات سے پوچھنا تھا كہ اس اىپ مىں پىسے لگانا كىسا ہے؟ وضاحت: پوچھنے پرمعلوم ہوا ہے كہ كلك نہ كرنے پر كچھ بھى نہىں ملتا، اور ممبر سے لىے ہوئے پىسے بٹ كوائن (ڈىجىٹل كرنسى) كے خرىد وفروخت پر لگائے جاتے ہىں جس مىں سے كچھ نفع خود لىتے ہىں اور كچھ نفع اپنے ممبر كو كلك كرنے پر دىتے ہىں، نفع كی مقدار فىصد كے اعتبار سے معلوم نہىں ہوتی، كبھى كم ملتا ہے اور كبھى زىادہ اور جب بھى ممبر اپنے پىسے واپس لىنا چاہے لے سكتا ہے اور اضافى رقم بھى ساتھ ملتى ہے۔

جواب

واضح رہے كہ كسى بھى اىپ مىں سرماىہ جمع كر كے منافع كمانا تب حلال ہوگا، جب منافع لىنے والے كو معلوم ہو كہ اس اىپ مىں شرعى اصولوں كے مطابق جائز كاروبار كىا جاتا ہے اور حاصل شدہ منافع كا ٹھىك حساب لگا كر حصہ داروں كو تقسىم كىا جاتا ہے، چوں كہ صورت مسئولہ مىں اس رقم كے ذرىعہ كىے جانے والے كاروبار كے بارے مىں ىہ بھى معلوم نہىں كہ وہ شرعى اصولوں كے مطابق ہے اور اسى طرح جتنے ممبران ہىں ان كے درمىان فىصدى اعتبار سے نفع كا تعىن بھى نہىں ہے، لہذا شرعا اس طرح كی اىپ مىں پىسےلگانا جائز نہىں ہے۔ لما في قوله تعالى: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ﴾. (النساء: 29) وفيه أيضًا: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ 90﴾. (سورة المائدة: 90) وفي الصحيح البخاري: عن النعمان بن بشير رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «الحلال بين، والحرام بين، وبينهما أمور مشتبهة، فمن ترك ما شبه عليه من الإثم كان لما استبان اترك ومن اجترأ على ما يشك فيه من الإثم أوشك أن يواقع ما استبان. والمعاصي حمى الله من ترتع حول الحمى يوشك أن يواقعه». (كتاب البيوع، باب: الحلال بين والحرام بين، وبينهما مشتبهات، رقم الحديث:2051، ص:329، دار السلام). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: