دارالافتاء

كس طرح كے كھيل جائز ہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مىچ (كھىل) كى كوئى جائز ودرست صورت ہے، تو اس سے آگاہ فرمائىں؟

جواب

واضح رہے كھىل كے لىے چند باتوں كا لحاظ ركھنا ضرورى ہے: ۱ كھىل سے مقصود محض ورزش ہو، كھىل كو مقصد نہ بناىا جائے۔ ۲ وہ كھىل بذات خود جائز بھى ہو، اس كھىل مىں كوئى نا جائز عمل نہ پاىا جائے۔ ۳ اس كھىل سے شرعى فرائض مىں كوتاہى ىا غفلت پىدا نہ ہو۔ لہذا جس كھىل مىں مذكورہ باتوں كو ملحوظ ركھا جائے، اس كھىل كى اجازت ہے، بصورت دىگر نہىں۔ لمافي التنوير مع الدر: ’’(و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة ملاعبته أهله وتأديبه لفرسه ومناضلته بقوسه‘‘. وتحته في الشامية: ’’ قوله: (كره كل لهو) أي: كل لعب وعبث.... قوله: (لأنه يصير قمارًا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارًا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص‘‘. (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع: 651/9، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: