
شرع شریف میں شطرنج کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شطر نج کے حوالے سے بتائیں کہ یہ کیوں حرام ہے؟ اس کے حرام ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟ اور یہاں میں ایک چیز واضح کر دوں کہ دور جہالت کے شطرنج اور اس دور کے شطرنج میں بہت فرق ہے، اور جس طریقے سے عوام الناس کو شطرنج کے حرام ہونے کا کہا جاتا ہے، تو دیگر کھیلوں کو بھی اسی طریقے سے بالکل حرام قرار دینا چاہیے۔ دیگر کھیلوں کے کھیلنے کے حوالے سے بھی اگر گنجائش نکلتی ہے، تو کیا شطرنج کے لئے بھی کوئی گنجائش نکل سکتی ہے؟
جواب
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے ایسے کھیلوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ جن سے جسمانی فائدہ حاصل ہو اور جن کھیلوں سے فائدہ حاصل نہ ہو تو ایسے کھیلوں سے منع کیا گیا ہے۔ شطر نج چونکہ اس قسم کے کھیلوں کے قبیل سے ہے کہ اس سے کسی قسم کا جسمانی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اس میں مصروفیت صرف وقت کا ضیاع ہے، لہذا شطر نج کھیلنا شرعاً درست نہیں ہے۔ لما في الصحيح لمسلم: عن سليمان بن بريدة، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ’’من لعب بالنردشير، فكأنما صبغ يده في لحم خنزير ودمه‘‘. (كتاب الشعر، باب تحريم اللعب بالنردشیر، ص:1001، دار السلام) وفي البدائع: ’’ويكره اللعب بالنرد والشطرنج والأربعة عشر ، لأنه قمار، أو لعب، وكل ذلك حرام... وعن سيدنا على كرم الله وجھه أنه قال: الشطرنج هو ميسر الأعاجم‘‘. (کتاب الاستحسان، 507/6، رشيدية) وفي التنوير مع الدر: ’’(و) كره تحريما (اللعب بالنرد) وكذا (الشطرنج)‘‘. وتحته في الرد: ’’ قوله: (والشطرنج) معرب شدرنج، إنما كره لأن من اشتغل به ذهب عناءه الدنيوي وجاءه العناء الأخروي، فھو حرام وكبيرة عندنا، وفي إباحته إعانة الشيطان على الإسلام والمسلمين‘‘. (كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، 65/9، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:
