
سرکاری زمین بغیر اجازت قبضہ کرکے مسجد کے لیے خریدنا
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارى كالونى مىں مسجد كے مضافات مىں اىك جگہ بہت طوىل مدت سے خالى پڑى ہوئى تھى، اس جگہ پر دوسروں كا قبضہ ہونے كے اندىشے مىں كچھ لوگوں نے ىہ طے پاىا كہ اس جگہ كو مسجد كے لىے خرىدا جائے، جب اس كى تحقىق كى گئى تو دو باتىں سامنے آئىں، پہلى ىہ كہ ىہ جگہ كسى كى ذاتى ملكىت ہے، جب اس شخص كى تلاش كى گئى تو معلوم ہوا كہ وہ شخص فوت ہوچكا ہے، اس كے وارثىن كو اس جگہ كے بارے مىں كوئى علم نہىں ہے، كہ ان كے اجداد كى كوئى ملكىت وہاں موجود ہے، ىہ پہلى بات مكمل ہوئى۔ اب دوسرى بات ىہ سامنے آئى كہ ىہ جگہ (ڈى ۔ ڈى۔ اے) حكومت دھلى، كى ہے اور متعلقہ محكمہ اسے فروخت نہىں كر رہا، لوگوں كى كافى كوشش كے باوجود محكمے مىں كسى شخص نے ىہ مشورہ دىا، كہ آپ اس جگہ پر قبضہ كرلىں تا كہ محكمہ جب بھى اس جگہ كو فروخت كرے ىا اس جگہ كو نىلام كرے تو آپ كو ہى فروخت كرے۔ اس كے بعد علاقے كے كچھ علماء نے ىہ تجوىز كىا كہ ہم اس جگہ پر قبضہ كر كے ىہ حىلہ اپنا رہے ہىں، كہ اس جگہ كو محكمے سے خرىد سكىں، تو كىا اس طرح كسى خالى جگہ پر قبضہ كر كے اور اس كو مكتب، مسجد، مدرسہ، ىا دىنى امور كے لىے استعمال كرنا درست ہے؟اور اگر محكمہ اس جگہ كو نىلام نا كرنا چاہے تو اس طرح اوپر بىان كىا گىا حىلہ اپنا كر خرىدنا درست ہے؟
جواب
صورت مسئولہ مىں اگر وہ زمىن كسى شخص كى ملك نہىں، بلكہ وہ (ڈى۔ ڈى۔ اے) حكومت دہلى كى ہے، تو مسجد وغىرہ بنانے كے لىے متعلقہ محكمہ سے اجازت لى جائے، اجازت سے پہلے وہاں مسجد ىا مدرسہ وغىرہ نہ بناىا جائے، حكومت منع نہىں كرتى تو ظاہرى طور پر اپنا تصرف ركھ سكتے ہىں، بشرطىكہ كسى فتنہ وغىرہ كا اندىشہ نہ ہو۔ لما في الدر المختار: ’’لا يجوز التصرف في مال غيرہ بلا إذنہ ولا ولايتہ‘‘. (كتاب الغصب: 334/9، رشيدية) وفي البدائع: ’’وأما حكم الغصب فلہ في الأصل حكمان: أحدھما يرجع إلى الآخرة. والثاني يرجع إلى الدنيا. أما الذي يرجع إلى الآخرة فھو الإثم، واستحقاق المؤاخذة إذا فعلہ عن علم لأنہ معصية، وارتكاب المعصية على سبيل التعمد سبب لاستحقاق المؤاخذة وقد روي عنہ عليہ الصلاة والسلام أنہ قال: «من غصب شبرا من أرض طوقہ اللہ تعالي من سبع أرضين يوم القيامة»، وإن فعلہ لا عن علم، بأن ظن أنہ ملكہ فلا يؤاخذہ عليہ؛ لأنہ الخطأ مرفوع المؤاخذة شرعا ببركة دعاء النبي صلي اللہ عليہ وسلم بقولہ عليہ الصلاة والسلام: ﴿ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا﴾ وقولہ عليہ الصلاة والسلام: «رفع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرھوا عليہ». وأما الذي يرجع إلى الدنيا فأنواع، بعضھا يرجع على حال قيام المغصوب... أما الذي يرجع إلى حال قيامة فھو وجوب رد المغصوب على الغاصب والكلام في ھذا الحكم في ثلاثة مواضع: في بيان سبب وجوب الرد.... أما السبب فھو أخذ مال الغير بغير إذنہ، لقولہ عليہ الصلاة والسلام: «على اليد ما أخذت حتى ترد» .... ولأن الأخذ على ھذا الوجہ معصية والرد عن المعصية واجب‘‘. (كتاب الغصب: 22/10، رشيدية) وفي الشامية: ’’قلت وھو كذلك، فإن شرط الوقف التأييد والأرض إذا كانت ملكا لغيرہ فللمالك استردادہا وأمرہ بنقض البناء‘‘. (كتاب الوقف، مطلب مناظرة ابن الشحنة مع شيخہ العلامة قاسم في وقف البناء: 597/6، رشيدية) وفي الھندية: ’’وأما حكمہ، فالإثم والمغرم عند العلم، وإن كان بدون العلم بأن ظن أن المأخوذ مالہ، أو اشترى عينا ثم ظھر استحقاقہ فالمغرم‘‘. (كتاب الغصب، الباب الأول: في تفسير الغصب وشرطہ وحكمہ إلخ: 139/5، دار الفكر). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:
اوقاف کے احکام
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
