دارالافتاء

مسجد کی صفیں کسی دوسرے دینی اجتماع کے لیے لے جانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کی صفیں (چٹائیاں) کسی دینی کام کے لئے مسجد سے باہر لے جاسکتے ہیں؟ بالخصوص تبلیغی اجتماع کے لئےلے کر جانا کیسا ہے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں

جواب

دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔ جواب واضح رہے کہ مسجد اور اس میں موجود تمام اشیاء وقف کی ہوتی ہیں، اور ان کو کسی دوسری جگہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں مسجد کی چٹائیاں کسی دوسری جگہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ استعمال کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔ لما في البحر الرائق: ’’يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ما له إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى كذا في الحاوي القدسي وفي المجتبي وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه‘‘. (کتاب الوقف، فصل في احكام المسجد، 421/5، رشيدية) وفي التنوير مع الدر: ’’(ولو خرب ما حوله واستغنى عنه يبقي مسجد عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتى)‘‘. ’’ قوله: (عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل لانه إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي وأكثر المشايخ عليه مجتبى وهو الأوجه‘‘. (كتاب الوقف، مطلب فيھا لو خرب المسجد أو غيره، 550/6، رشيدية) وفي الفتاوى التاتارخانيه: ’’متولى المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد الى بيته، وله أن يحمل من البيت إلى المسجد‘‘. (كتاب الوقف، 169/8، فاروفية) وفيه أيضاً: ’’سئل ابو القاسم: عن حشيش المسجد أيجوز رفعه للإنتفاع به؟ قال: لا فإن رمى به خارجاً من المسجد للإستغناء عنه فلا بأس بالإنتفاع به‘‘. (كتاب الوقف، 169/8، فاروقية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: