دارالافتاء

اسکول کی زمین میں مسجد وعارضی مصلہ بنانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ضلع رانچی کے قصبہ کا نکے میں ایک عصری درسگاہ مدرسہ فیض العلوم کے نام سے 1953 میں قائم کیا گیا ہے، ایک عرصہ تک بحسن و خوبی یہ ادارہ چلتا رہا، پھر بعض وجوہات کی وجہ سے یہ ادارہ بند ہو گیا، ادھر تقریباً دس بارہ سالوں سے یہ ادارہ بند ہے اور اس کی عمارت خالی پڑی ہے، دو چار ماہ قبل علاقے کے لوگوں کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اب اس جگہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا جائے، اسکول کی عمارت چار ڈسمل زمین میں بنی ہے، عمارت تو دو منزلہ ہے لیکن انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے عمارت کے تین طرف لوگوں کے مکانات ہیں اور سامنے کی طرف زمین میں اضافے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ یہ ممکن ہے کہ روڈ کی توسیع کے وقت کچھ زمین روڈ میں چلی جائے، زمین کی نوعیت کے تعلق سے یہ عرض ہے کہ واقف نے اس زمین کا جو وقف نامہ چھوڑا ہے اس میں اس بات کی صراحت ہے کہ اراکین وذمہ داران مسجد چوڑی ٹولہ کانکے وقف کے نگران ہیں، اسی طرح مقصد وقف کی صراحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ زمین مذہبی تعلیم کے لیے استعمال میں لائی جائے یا کوئی اور نیک عمل جس میں تمام مسلمانوں کی فلاح و بہبود وابستہ ہو، اس پس منظر میں مندرجہ ذیل سوالوں کے

جواب

مطلوب ہیں: ۱ کیا اس زمین میں مسجد کی تعمیر کی جاسکتی ہے؟ ۲ کیا فی الحال شکستہ حال عمارت کی وقتی طور پر ہلکی پھلکی ترمیم (ریپیئر) کر کے نماز خانہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ شکستہ حال عمارت کو مسمار کر کے ازسر نو مسجد بنایا جائے ؟ ۳ اسکول کی عمارت میں ایک جگہ بیت الخلاء بنا ہوا تھا جو تقریبا آٹھ نو سالوں سے بالکل استعمال میں نہیں ہے، مسجد کی نئی تعمیر کے وقت کیا اسے داخل مسجد (نماز کے لیے مخصوص جگہ) میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ جواب ۱ صورت مسئولہ میں ذکر کردہ زمین میں مسجد کی تعمیر کرنا درست ہے۔ ۲ شکستہ حال عمارت کی ہلکی پھلکی مرمت کر کے مصلی بنانا درست ہے، تاہم نئی مسجد تعمیر کی جائے، تو زیادہ بہترہے۔ ۳ بیت الخلاء والی جگہ کو مسجد کی نئی تعمیر میں داخل کرنا جائز ہے، بشر طیکہ بد بو وغیرہ کو ختم کر دیا جائے۔ لما في الرد: ’’وقد اختلف كلام قاضي خان في موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف، حيث رأى المصلحة فيه وفي موضع منع منه: لو صارت الأرض بحال لا ينتفع بھا والمعتمد أنه بلا شرط يجوز للقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية، وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش، وشرط الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل لئلا يحصل التطرق إلى إبطال أوقاف المسلمين كما هو الغالب في زماننا اهـ ويجب أن يزاد آخر في زماننا وهو أن يستبدل بعقار لا بدراهم ودنانير فإنا قد شاهدنا النظار يأكلونھا، وقل أن يشتري بھا بدلا ولم نر أحدا من القضاة فتش على ذلك مع كثرة الاستبدال في زماننا. اهـ‘‘. (كتاب الوقف، مطلب في اشتراط الإدخال والإخراج، 591/6، رشيدية) وفيه أيضا: ’’اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فھو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه‘‘. (كتاب الوقف، مطلب في استبدال الوقف وشروطه، 589/6، رشيدية) وفيه أيضا: ’’أن الاستبدال إما عن شرط الاستبدال أولا عن شرطه، فإن كان لخروج الوقف عن انتفاع الموقوف عليھم، فينبغي أن لا يختلف فيه‘‘. (كتاب الوقف، مطلب لا يستبدل العامر إلا في أربع، 594/6، رشيدية). وفيه أيضا: ’’إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء، وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولھم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفھوم والدلالة، ووجوب العمل به‘‘. (كتاب الوقف، مطلب في نقل كتب الوقف من محلھا، 561/6، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: