دارالافتاء

زیتون کادرخت کاٹنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ زیتون کے درختوں کو کاٹنا اور توڑ نا گناہ ہے ، اگر کوئی کاٹتا ہے، تو ایسے شخص کو ظالم کہنے لگ جاتے ہیں، اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی ٹہنی سے گھر کو جھاڑو دینا بھی درست نہیں ہے، اب دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا ان کی یہ بات درست ہے، یا اس بارے میں کچھ تفصیل ہے ؟ اسی طرح عام درخت جب اگنا شروع کریں، تو ان کو کاٹنے کا کیا حکم ہے، ہمارے علاقے کے پہاڑوں میں یہی زیتون کے درخت ہوتے ہیں ، جس کے بارے میں لوگوں کا یہ نظریہ ہے، درست مسئلہ بتا کر اجر عظیم کے مستحق ہوں۔

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ زیتون ایک مبارک درخت ہے، جس کا ذکر قرآن وحدیث میں متعدد بار آیا ہے، لیکن اس کے باوجود زیتون کا درخت کاٹنا، نہ گناہ ہے، نہ ہی کاٹنے والا شر عا ظالم شمار ہوگا، اور اس کی ٹہنی سے جھاڑو دینا بھی درست ہے، اور یہی حکم عام درختوں کا بھی ہے ، سوائے حرم مکی کے درختوں کے کہ ان کا کاٹنا حرام ہے، البتہ بلا وجہ درختوں کا کاٹنا پسندیدہ نہیں ہے۔ لما في التنزيل العزيز: ]اللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيھا مِصْبَاح الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنھا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُھَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَھْدِي اللَّه لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللَّه الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّه بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ[. (سورة النور، الآية:35) وفي التفسير الكبير: ’’وأما الزيتون فشجرة مباركة فاكھة من وجه وإدام من وجه ودواء من وجه، وهي في أغلب البلاد لا تحتاج إلى تربية الناس، ثم لا تقتصر منفعتھا غذاء بدنك‘‘. (سورة التين: 10/16، دار الكتب العلمية) وفي سنن الترمذي: حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن زيد بن أسلم عن أبيه أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’كلوا الزيت وادهنوا به فإنه من شجرة مباركة‘‘. (أبواب الأطعمة، باب ما جاء في أكل الزيت، رقم الحديث:1851، ص:571، دار السلام) وفي تفسير الملاعلي القاري: ’’وأفاد الأستاذ: أنه سبحانه أقسم بالتين لما أعظم به المنة على خلقه حيث لم يجعل فيه النوى وخلصه عن شوائب التنقيص والردى جعله على مقدار اللقمة لتتكامل فيه اللذة، وبالزيتون لما فيه من المنافع كالاستصباح به والتأدم والاصطباغ فيه‘‘. (سورة التين: 342/5، دار الكتب العلمية) وفي البحر الرائق: ’’(فإن قطع حشيش الحرم أو شجر غير مملوك ولا مما ينبته الناس ضمن قيمته إلا فيھا جف)‘‘. (کتاب الحج، فصل إن قتل محرم صيدا: 3/76، رشيدية) وفي التنوير مع الدر: ’’(نستعين بالله ونحاربھم بنصب المجانيق وحرقھم وغرقھم وقطع أشجارهم ) ولو مثمرة وإفساد زروعھم إلا إذا غلب على الظن ظفرنا فيكره‘‘. (كتاب الجھاد، مطلب في أن الكفار مخاطبون نديا: 206/6، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: