Dar-ul-Ifta

کیا سالی کو شہوت سے چھونے سے نکاح پر اثر پڑے گا؟

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکے کا کسی لڑکی سے نکاح ہو گیا ہے، پھر وہ اپنی بیوی کی بہن کو شہوت سے مس چھولیتا ہے، تو کیا اس لڑکے پر اس کی بیوی حرام ہو جاتی ہے یا صرف اس لڑکی کے اعلی واسفل حرام ہو جاتے ہیں؟

Answer

صورت مسئولہ میں لڑکے کا اپنی سالی کو شہوت سے چھونے کی وجہ سے اس پر اس کی بیوی حرام نہیں ہوئی، البتہ اس سنگین جرم پر اللہ تعالی سے تو بہ واستغفار لازم ہے۔ لما في الدر مع الرد : ’’وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته. قوله لا يحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة، فالمعنى: لا تحرم حرمة مؤبدة، وإلا فتحرم إلى انقضاء عدة الموطوءة لو بشبھة‘‘. (كتاب النكاح، فصل فى الحرمات، 116/4، رشيدية) وفي خلاصة الفتاوى: ’’رجل وطئ أخت امرأته لا تحرم عليه امرأته‘‘. (كتاب النكاح، الفصل الثاني فيمن يكون محلا للنكاح وفيھا لا يكون، 7/2، رشيدية) وفي البحر الرائق: ’’لو وطئ أخت امرأته بشبھة حيث تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبھة‘‘. (كتاب النكاح، فصل في الحرمات، 170/3، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: