Dar-ul-Ifta

حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنے کا شرعی حکم

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے بچپن میں کسی اجنبی عورت کا دودھ پی لیا، جس کی بناء پر یہ شخص اس عورت کا رضاعی بیٹا بن گیا، اب اس عورت کی حقیقی بیٹیاں ہیں، اور اس عورت کے رضاعی بیٹے کا حقیقی بھائی اس عورت کی ایک بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو کیا اس چھوٹے بھائی کے لیے یہ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں چھوٹے بھائی کے لیے اپنے بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے۔ لما في التنوير مع الدر: ’’(وتحل أخت أخيه رضاعا)يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية،وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما، وهو ظاهر‘‘.(كتاب النكاح، باب الرضاع: 398/4، رشيدية) وفي الهندية: ’’ وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا‘‘.(كتاب الرضاع: 409/1، دارالفكربیروت). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: 191/160