
بالغ عورتوں کے لیے نامحرم سے شرعی پردہ کرنا
Question
کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں لوگ ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں، چاہے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار، اور چاہے گھر کے آدمی گھر میں موجود ہوں یا نہیں، اور وہ بیٹھے رہتے ہیں، عور تیں اسی گھر میں ہوتی ہیں، پردے کی کوئی پرواہ نہیں رکھتے ہیں، اور ہم بھائیوں نے اپنے گھر میں لوگوں کے اس طرح آنے کو بند کیا ہے، جبکہ والد صاحب ہمارا ساتھ نہیں دیتے، اور ہم پر غصہ ہوتے ہیں کہ لوگوں کو گھر سے بند نہ کریں، تو کیا اس صورت میں اگر ہم بھائی والد صاحب کا کہنا نہ مانیں تو شرعا تو کوئی قباحت نہیں ہے؟
Answer
بالغ عورتوں کے لیے نامحرم سے شرعی پردہ کرنا ضروری ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر والد صاحب کا کہا نہ ما نیں، تو اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں۔ لمافي البحر: ’’قال مشائخنا: تمنع المرأة الشابة من كشف وجھھا بين الرجال في زماننا للفتنة‘‘. (كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، 470/1، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
و غیر محرمات
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
