
کیا جانور حلال ہونے کے لیے صرف خون بہنا کافی ہے؟
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری ایک گائے تھی، جس کو کوئی بیماری نہیں تھی، مغرب کی اذان کے وقت ہم نے اس کو چارہ ڈال دیا اور نماز کے لیے چلے گئے، نماز سے واپس آکر ہم نے دیکھا کہ وہ زمین پر پڑی ہے اور زندگی کی کوئی رمق اس میں نظر نہیں آرہی، پورے جسم میں کوئی حرکت نظر نہیں آرہی منہ میں ہاتھ ڈالا تو ایسا لگا کہ مردار ہو چکی ہے، لیکن لوگوں نے اسے ذبح کردیا اور ذبح کے وقت اس سے حلال جانوروں کی طرح بہت زیادہ خون بہہ پڑا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا جانور کے حلال ہونے کے لیے صرف خون کا بہنا کافی ہے یا دوسری علامات بھی ضروری ہیں؟ راہ نمائی فرمائیں ہم آپ حضرات کے بے حد مشکور ہوں گے۔
Answer
واضح رہے کہ ماکول اللحم جانوروں کی حلت وحرمت کے متعلق دو صورتیں ہیں، پہلی صورت تو یہ ہے کہ جانور کے زندہ ہونے کا علم ہو، پھر اس کو ذبح کیا تو اس صورت میں جانور مطلقا حلال ہے، خواہ اس سے خون بہے یا نہ بہے، حرکت کرے یا نہ کرے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جانور کے زندہ ہونے کا علم نہ ہو اور اس کو ذبح کر لیا، تو اس صورت میں اگر جانور نے حرکت لی یا اس سے ایسا خون بہا جیسے زندہ جانور سے خون بہتا ہے، تو ان دونوں صورتوں میں جانور حلال ہے، اور اگر نہ خون بہا اور نہ ہی کوئی حرکت کی تو اس صورت میں جانور مردار ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ جانور حلال ہے اور اس کا گوشت کھانا درست ہے۔ لما في الھنديه: ’’وأما خروج الدم بعد الذبح فيما لا يحل إلا بالذبح فھل هو من شرائط الحل فلا رواية فيه عن أصحابنا وذكر في بعض الفتاوى أنه لا بد من أحد شیئین إما التحرك وإما خروج الدم فإن لم يوجد لا تحل كذا في البدائع وإن ذبح شاة أو بقرة فخرج منھا دم ولم تتحرك وخروجه مثل ما يخرج من الحي أكلت عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى وبه نأخذ‘‘. (كتاب الذبائح، الباب الأول، 330/5، دار الفكر) وفي التنوير مع الدر: ’’(ذبح شاة) مريضة (فتحركت أو خرج الدم حلت وإلا لا إن لم تدر حياته) عند الذبح وإن علم حياته (حلت) مطلقا (وإن لم تتحرك ولم يخرج الدم)‘‘. ’’ قوله: (أو خرج الدم) أي: كما يخرج من الحي. قوله: (حلت) لوجود علامة الحياة‘‘. (كتاب الذبائح، 514/9، رشيدية) وفي الفتاوى التاتارخانيه: ’’ذبح شاة أو بقرة فتحركت بعد الذبح وخرج منھا دم مسفوح حلت؛ لأنه وجدت علامة الحياة، وإن خرج منھا دم مسفوح، ولم تتحرك أو تتحركت ولم يخرج منھا دم مسفوح فكذلك الجواب؛ لان علامة الحياة أحد هذين الأمرين، وإن لم تتحركت، ولا خرج منھا دم مسفوح لم تؤكل‘‘. (كتاب الذبائح، الفصل الثاني، صفة الذكات، 394/17، فاروقية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
