
ووٹ کے عوض قبرستان کے لیے جگہ کا مطالبہ کرنا
Question
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ الیکشن میں کچھ حضرات کی کمیٹی بن کر امیدوار سے یہ طلب کرتے ہیں کہ ہمارے ووٹ کافی ہیں اور ہم اس الیکشن میں آپ کو ووٹ دیں گے، لیکن آپ ہمیں قبرستان کی جگہ دے دیں یعنی خرید کر دے دیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ لوگ سیلاب متاثرین ہیں اپنا علاقہ وضلع چھوڑ کر دوسرے ضلع میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں ان کے پاس قبرستان نہیں ہے، تو وہ اس امیدوار سے الیکشن میں قبرستان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تو یہاں بعض حضرات اس کام کو فلاحی یا اجتماعی کام کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں اور بعض حضرات اس کو عوض کہہ کر ناجائز قرار دیتے ہیں۔آپ حضرات شریعت کی روشنی میں
Answer
عنایت فرمائیں۔ جواب صورت مسئولہ میں امیدوار سے ووٹوں کے بدلے میں قبرستان کے لیے جگہ کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔ لما في القرآن المجید: ﴿يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لله شُھَدَاءَ بِالْقِسْطِ﴾. (سورة المائدة، رقم الآية: 8). وفيه أيضا: ﴿إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِھَا﴾.[النساء، رقم الآية: 58] وفي الدر: ’’(ويجب أداؤها بالطلب)....... (لو في حق العبد إن لم يوجد بدله) أي: بدل الشاهد لأنھا فرض كفاية تتعين لو لم يكن إلا شاهدان لتحمل أو أداء، وكذا الكاتب إذا تعين، لكن له أخذ الأجرة لا للشاهد حتى لو أركبه بلا عذر لم تقبل، وبه تقبل لحديث: ((أكرموا الشھود)) وجوز الثاني الأكل مطلقا وبه يفتى‘‘.(كتاب الشھادات، 199/8، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
معاملات و معاشرت
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
