Dar-ul-Ifta

گىس كمپرىسر لگانے كا حكم

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں مىں تقرىبا 95 فىصد لوگ گىس كمپرىسر لگاتے ہىں، جس كى وجہ سے 5 فىصد لوگوں كو انتہائى تكلىف كا سامنا كرنا پڑ رہا ہے، ان كے گھروں مىں گىس بالكل نہىں آتی، اىسے مىں اگر سارے گاؤں والے گىس كمپرىسر لگائىں تو كسى كو تكلىف اور اذىت نہ ہو، تو كىا شرعا ان 5 فىصد لوگوں كو گىس كمپرىسر لگانا چاہئے ىا نہىں؟ شرعى رہنمائى فرمائىں۔

Answer

صورت مسئولہ میں اگر گیس کمپریسر لگانے کی صورت میں مساویانہ تقسیم متاثر ہوتی ہو، اور ضرر عام لاحق ہوتا ہو، تو یہ شرعا ناجائز بھی ہے، اور قانونا جرم بھی ہے، لہٰذا اس سے خود اجتناب کی ضرورت ہے، چہ جائے کہ دوسروں کو اس گناہ کے کرنے پر برانگیختہ کیا جائے۔ لما في فيض القدير: ’’(لا ضرر ولا ضرار) أي: لا يضر الرجل أخاہ فينقصہ شيئا من حقہ وفيہ تحريم سائر أنواع الضرر‘‘.(حرف لا: 648/8، دار الحديث) وفي المبسوط للسرخسي: ’’قال إن كان ذلك يضر بالعامة لم يجز فإن كان لا يضر بھم فھو جائز إذا كان ذلك في غير ملك أحد لأن للسلطان ولاية النظر دون الإضرار بالعامة ففيما لا يضر بالعامة يكون ھذا الإقطاع منہ نظرًا لمن أقطعہ إياہ وفيما يضر بھم يكون ھذا الإقطاع إضرارًا بالعامة وليس لہ ذلك‘‘. (كتاب الشرب: 175/23، رشيدية) وفي الھداية: ’’وھل يبيع القاضي على المحتكر طعامہ من غير رضاہ قيل ھو على الاختلاف الذي عرف في بيع مال المديون وقيل يبيع بالاتفاق لأن أبا حنيفة رحمہ اللہ يرى الحجر لدفع ضرر عام‘‘. (كتاب الكراھية، فصل في البيع: 263/4، دار الدقائق). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: