
اولاد اور والدین کے مابین باہمی حقوق
Question
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچوں کی نافرمانی کی سزا کے بارے میں بتائیں کہ قران میں اللہ کا حکم ہے؟ اور اگر باپ ایک تھپڑ یا کوئی چپت لگا دے تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
Answer
واضح رہے کہ باہمی زندگی کو اچھا اور پر سکون گزارنے کے لیے اللہ تعالی نے ہر بندے کے ذمے کچھ حقوق لازم کیے ہیں، جو رشتوں کی بنیاد پر کم اور زیادہ ہوتے رہتے ہیں، انہی رشتوں میں سے ایک اہم اور مضبوط ترین رشتہ والدین اور اولاد کا آپس کا رشتہ ہے، والدین اور اولاد میں سے ہر ایک کے ذمے اللہ تعالی نے کچھ حقوق لازم کیے ہیں، جن پر عمل پیرا ہونے سے ایک اچھی معاشرت وجود میں آتی ہے۔ اولاد کا سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اس کو بہترین تعلیم اور تربیت دی جائے، تاکہ وہ وہ اعلی اخلاق اور بہترین کردار والے بنیں، اور ان کے ذریعے معاشرے کی اصلاح ہو سکے، اسی طرح اولاد کے ذمہ والدین کے بھی حقوق ہیں، یہ کہ ان کو ہر ممکن خوش رکھا جائے، اور اپنی جان و مال سے ان کی خدمت کی جائے، اگر کوئی سخت ناگوار بات کہہ دیں یا مار پیٹ کریں، تب بھی خاموشی سے سنتا رہے، اور جواب میں کچھ نہ کہے، تاہم والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو موقع بموقع وعظ و نصیحت کرتے رہیں، اور انھیں اللہ تعالی کے عذاب سے ڈراتے رہیں، بلکہ کسی بزرگ (اللہ والے) سے ان کا اصلاحی تعلق قائم کرادیں، تاکہ ان کی صحبت اور ان کی وعظ و نصیحت سے اولاد کی بری عادات ختم ہو جائیں، اور وہ اچھی عادتوں کے خوگر (عادی) بنیں۔ لما في أحكام القرآن للجصاص: ’’وبين الله تعالى بھذه الآية تأكيد حق الأبوين، فقرن الأمر بالإحسان إليھما إلى الأمر بالتوحيد، فقال: ﴿وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا﴾ ثم بين صفة الإحسان إليھما بالقول والفعل والمخاطبة الجميلة على وجه التذلل والخضوع، ونھى عن التبرم والتضجر بھما بقوله: ﴿فلا تقل لھما أف) ونھى عن الإغلاظ والزجر لھما بقوله: ﴿ولا تنھر هما﴾ فأمر بلين القبول والاستجابة لھما إلى ما يأمرانه به ما لم يكن معصية، ثم عقبه بالأمر بالدعاء لھما في الحياة وبعد الوفاة‘‘. (سورة الإسراء، باب بر الوالدين: 291/3، قدیمی). وفي مشكاة المصابيح: ’’وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من أصبح مطيعا الله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا. ومن أمسى عاصيا الله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا)) قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماہ وإن ظلماہ وإن ظلماہ))‘‘. ’’وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((كل الذنوب يغفر الله منھا ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات))‘‘. (كتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث: 2/ 209، دار الكتب العلمية). وفي رد المحتار: ’’فرع في فصول العلامي: إذا رأى منكرا من والدية يأمرها مرة، فإن قبلا فبھا، وإن كرها سكت عنھما واشتغل بالدعاء والاستغفار لھما، فإن الله تعالى يكفيه ما أهمه من أمر هما‘‘. (كتاب الحدود، باب التعزير، مطلب في تعزير المتھم: 6/ 125، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.: 181/215
معاملات و معاشرت
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
