
والدىن سے چھپ كر منگىتر كى رضا مندى سے نكاح پڑھوانا
Question
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اىك شخص اپنى منگىتر سے اس كى عدم موجودگى مىں اس كى رضا مندى كے ساتھ گواہوں كى موجودگى مىں نكاح شرعى پڑھوا سكتا ہے؟ جب كہ لڑكى اور لڑكے كے والدىن وغىرہ كو اس كا علم نہ ہو اور ىہ نكاح صرف اس لىے كر رہے ہوں كہ ان كى آپس مىں بات چىت كرنا حلال ہوجائے۔ تفصىل: لڑكا اور لڑكى ىہ چاہتے ہىں كہ وہ آپس مىں بحىثىت مىاں بىوى بات چىت كرىں اور نكاح شرعى اس طرح كرنا چاہتے ہىں كہ لڑكى اپنے گھر مىں ہى رہے بس اجازت دے دے اور لڑكے كو ہى اپنا وكىل بنا دے كہ تم مىرا اور اپنا نكاح چند لوگوں كو جمع كر كے اپنے ساتھ پڑھوا لو اور لڑكا اىسا ہى كر دے۔ كىا اس طرح ىہ نكاح منعقد ہوجائے گا؟ كىا شرىعت مطہرہ بحالتِ مجبورى انعقاد نكاح كے لىے اس طرح كى صورت كى اجازت دىتى ہے؟اگر نہىں تو براہ كرم كوئى بہتر صورت بىان فرمائىں۔ نىز وہ ىہ نكاح محض اس لىے كر رہے ہىں كہ وہ حلال بندھن مىں بندھ كر بات چىت مىل جول كرسكىں، كىوں كہ باوجود كوشش كے وہ بات چىت مىل جول سے نہىں رك پا رہے اور دونوں كے والدىن ان كے نكاح مىں 5 سے 6 تك كى تاخىر كررہے ہىں۔
Answer
حضراتِ احناف رحمہم اللہ كے نزدىك اگر بالغہ لڑكى اپنى رضا مندى سے اپنا نكاح كسى مرد كے ساتھ كفو مىں كردے، تو وہ نكاح منعقد ہوجاتا ہے لہذا صورت مسئولہ مىں بھى اس طرح سے نكاح منعقد ہوجاتا ہے۔ البتہ بہتر ىہ ہے كہ ان معاملات مىں آپ اپنے كو اپنے والدىن كے حوالہ كرىں، وہ جس طرح مناسب سمجھىں، اس كے مطابق عمل كرىں، ان شاء اللہ اسى مىں خىر ہوگى۔ لما في التنوير مع الدر: ’’(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا رضا ولي) والأصل أن كل من تصرف في مالہ تصرف في نفسہ)‘‘. (كتاب النكاح، باب الولي: 150/4، رشيدية) وفي البدائع: ’’الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسھا من رجل أو وكلت رجلًا بالتزويج، فتزوجھا أو زوجھا فضولي فأجازت، جازت‘‘. (كتاب النكاح، فصل في ولاية الندب: 369/3، رشيدية) وفي المبسوط: ’’أن المرأة إذا زوجت نفسھا أو أمرت غير الولي أن يزوجھا، فزوجھا جاز النكاح‘‘. (كتاب النكاح، باب النكاح بغير ولي....: 10/5، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
;" > نکاح
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
