Dar-ul-Ifta

استخارے كا مسنون طريقہ اور شادی ميں اس کا عمل دخل

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مىرى عمر 29 سال ہے، جب كہ اب تك مىرى شادى نہىں ہوئی اور اپنے بہن بھائىوں مىں سب سے بڑا ہوں، مىرا مسئلہ ىہ ہے كہ مىرے والد ہم سب كى شادى كو لے كر استخارہ كرتے ہىں اور مىرى لىے بھى كچھ سال قبل دو رشتوں پر استخارہ كىا تھا جو كہ نہىں بن سكے اور مىرے بہن بھائىوں كے بھى نہ بنے اور كافى رشتہ داروں نے بھى استخارہ كرنے كو كہا تھا ،جن كے بھى نہ بن سكے، مگر رشتہ داروں نے استخارہ نہ بننے كے باوجود بھى اپنى بىٹىوں كى شادى وہاں كرائى اور آج الحمد للہ وہ اپنے گھروں مىں خوش ہىں۔ جس كے بعد كافى وقت گزرنے كے بعد مىرى والدہ نے مىرے لىے اپنى بھانجى كا انتخاب كىا جس پر مىں بھى آمادہ ہوگىا اور لڑكى نے بھى اس بات كى ىقىن دہانى كرائى كے آپ كے گھر كے اصول وضوابط كے مطابق زندگى گزاروں گى، جس كے بعد مىں نے اپنے والد كو اپنى شادى كے استخارہ كرنے سے منع كرتے ہوئے تو كل علی اللہ پر كرنے پر زور دىا، مگر مىرے والد نے معمول كے مطابق وہاں بھى استخارہ كىا اور نہ بن سكا۔ لہذا آپ جناب سے التماس ہے كہ شرىعت كى مد نظر میں مىرے والد صاحب كے اس فىصلے پر كوئى راستہ نكالا جائے، تا كہ مىرے سب بہن بھائى اور والدہ كى رضا مندى كے ساتھ والد صاحب كى رضا مندى سے مىں اس جگہ شادى كروں۔

Answer

واضح رہے كہ جب كسى امر مباح ىا اىسے امر واجب كہ جس كى ادائىگى فى الفور ضرورى نہىں، كے كرنے ىا نہ كرنے كے حوالے سے تردد ہو تو شرىعت مطہرہ نے اس صورت مىں استخارہ كرنے كى تعلىم وترغىب دى ہے، استخارے كا مسنون طرىقہ ىہ ہے كہ دو ركعت نفل كى نىت سے پڑھےجائیں اور سلام پھىرنے كے بعد استخارے كى مسنون دعا پڑھ لے، اس كےبعد جس جانب دل مطمئن ہو اسى پر عمل كىا جائے، استخارہ مىں سونا ىا خواب مىں كسى بشارت كا ملنا ضرورى نہىں ہے، بلكہ شرىعت مطہرہ نے كسى بھى قلبى مىلان حاصل ہوجانے كى صورت مىں اس پر عمل كرنے كى ترغىب دى ہے، لہذا صورت مسئولہ مىں اگر دونوں خاندانوں كے درمىان ذہنى ہم آہنگى موجود ہے، اور رشتوں كا كامىاب ہوجانا تجربے سے بھى ثابت ہے، اور لڑكى والے شرىف اور خاندانى لوگ ہىں تو آپ كے اپنى ماموں زاد سے نكاح كرنے مىں شرعا كوئى حرج نہىں ہے۔ اور آپ كے والد محترم كو چاہىے كہ استخارہ كے بعد اپنے خاندان كے معتبر اشخاص سے مشاورت كرىں اور اپنے لڑكے كا رشتہ جلد از جلد مكمل كر كے اس ذمہ دارى سے سبكدوش ہوجائیں اور ىہ شرىعت كے تقاضوں كے زىادہ ہم آہنگ ہے، كىوں كہ صرف اس وجہ سے بالغ اولاد كے نكاح مىں تاخىر كرنا كہ خواب مىں كوئى بشارت نہىں ملى، اس وجہ سے تاخىر كرنا درست نہىں ہے، لہذا اس سے بچا جائے۔ لما في جامع الترمذي: عن جابر بن عبد الله قال: ’’كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن، يقول: (إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسالك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري أو قال: في عاجل أمري وأجله فيسره لي، ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري، أو قال: في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه وأقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به. قال ويسمي حاجته)‘‘. وتحته في العرف الشذي: ’’إذا كان الإنسان مترددًا في أمر مباح أو واجب غير موقت فيستخير، ولا استخارة في أمر واجب أو حرام، وأما البشارة بالرؤيا فلا وعد لها‘‘. (أبواب الوتر، باب ما جاء في صلاة الاستخارة، رقم الحديث:480، دار السلام) وفي الأذكار للنووي: ’’ثم إن الاستخارة مستحبة في جميع الأمور كما صرح به نص هذا الحديث الصحيح، وإذا استخار مضى بعدها لما ينشرح له صدره‘‘. (كتاب الأذكار والدعوات الأمور العارضة، باب دعاء الاستخارة، ص:86، دار ابن حزم) وفي الدر المختار: ’’والاستخارة أي في أنه هل يشتري أو يكتري، وهل يسافر برًا أو بحرًا، وهل يوافق فلانا أو لا، لأن الاستخارة في الواجب والمكروه لا محل لها‘‘. (كتاب الحج، مطلب في فروض الحج وواجباته: 543/3، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: