
مشترك زمىن كی كسى غىر متعىن جگہ كو فروخت كرنا
Question
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اىك زمىن پندرہ ورثاء كے مابىن مشترک تھى، اىك وارث نے اىك بندے پر دو كنال بىچ دى اس شرط پر كہ ىہ زمىن مشترك ہے اورمىرا بھائى جگہ كى متعىن كرے گا۔ اس نے موقع پر جھوٹ بول كر كہا كہ اس بھائى نے مجھے ىہ جگہ بتائى ہے، اورپىمائش كرلى۔ جب باقى ورثاء كو پتہ چلا تو اس وقت اس كو كہا كہ ىہ والى جگہ ہمارى بىچنے كى نہىں ىا پىسے واپس لو، ىا جو جگہ شروع مىں اس بھائى نے بتائى تھى وہ لو۔ وہ كبھى كہتا كہ مىں پىسے واپس لىتا ہوں كسى سے كہتا كہ مجھے وہى جگہ دو جو اس ذمہ دار بھائى نے شروع مىں بتائى تھى۔ اسى ٹال مٹول مىں كچھ مہىنے گزر گئے اب وہ بندہ كہتا ہے كہ مىرى ہى جگہ ہوگى جو مىں نے منتخب كى ہے۔ ورثاء كى غىر موجود گى مىں وہ موىشى خانہ بنا رہا تھا، جب ورثاء كو پتہ چلا تو فورا اس كو روكا اب كوئى وارث وہ جگہ دىنے كو تىار نہىں، جس نے جگہ دى ہے وہ بھى تىار نہىں وہ كہتا ہے كہ اس نے جھوٹ بول كر كہا تھا كہ ذمہ دار بھائى نے مجھے ىہ جگہ بتائى ہے جب كہ اس بھائى نے دوسرى جگہ بتائى تھى ىہ خرىدار شرىعت كے لىے بھى تىار نہىں ہوتا۔ اب مسئلہ عدالت مىں چل رہا ہے جج صاحب نے اس زمىن كا شرعى حكم طلب كىا ہے؟ ۱ آىا ورثاء كى اجازت كے بغىر وہ اس معىن جگہ كا مالك بن سكتا ہے ىا نہىں؟ ۲ اگر نہىں تو ىہ اپنى دى ہوئى رقم واپس لىنے كا حقدار ہے ىا جو جگہ شروع مىں ذمہ دار بھائى نے بتائى تھى؟ ۳ ىا تمام ورثاء كے مابىن تقسىم ہوجائے تو جو جگہ بىچنے والے بھائى كے حصہ مىں آئے تو خرىدار كو وہ جگہ ملے ؟ شرىعت كى روشنى مىں وضاحت فرمائىں۔
Answer
صورت مسئولہ مىں مبىع (زمىن) كے مجہول ہونے كى وجہ سے معاملہ فاسد ہے، لہذا مشترى اپنى دى ہوئى رقم كا مستحق ہے، اور زمىن جس طرح تمام ورثاء مىں مشترك تھى اسى حالت پر بر قرار رہے گى۔ لما في الھداية: ’’(ولا يجوز بيع ثب من ثوبين) لجاھلة المبيع‘‘. (كتاب البيوع، باب البيع الفاسد: 78/3، البشریٰ) وفي الخانية: ’’رجل قال لغيرہ: بعتك مائة ذراع من داري أو أرضي ولم يبين ذرعانھا وموضعھا، لا يجوز في قول أبي حنيفة وزفر رحمھما اللہ تعالى، وقال أبو يوسف ومحمد رحمھما اللہ تعالى: يجوز ويصير المشتري شريكا للبائع بمائة ذراع من الدار‘‘. (كتاب البيع، باب البيع الفاسد: 84/2، دار الفكر) وفي الفتاوى الھندية: ’’ومنھا: أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة، فيبع المجھول جھالة تفضي إليھا غير صحيح‘‘. (كتاب البيوع، الباب الأول في تعريف البيع وركنہ وشرطہ وحكمہ وأنواعہ: 5/3، دار الفكر) وفي مجلة الأحكام العدلية: ’’يلزم أن يكون المبيع معلومًا عند المشتري‘‘. (الباب الثاني في بيان مسائل المتعلقة بالمبيع، الفصل الأول في حق شروط المبيع وأوصافہ، مادة: 200) وفي الھداية: ’’ومن اشترى عشرة أذرع من مائة ذراع من دار أو حمام فالبيع الفاسد عند أبي حنيفة، وقالا: ھو جائز، وإن اشترى عشرة أسھم من مائة سھم جاز في قولھم جميعًا. لھما: أن عشرة أذرع من مائة ذراع عشر الدار فأشبہ عشرة أسھم من مائة سھم، ولہ: أن الذراع اسم لما يذرع بہ، استعير لما يحلہ الذراع وھو المعين دون المشاع، وذلك غير معلوم، بخلاف السھم‘‘. (كتاب البيوع: 16/3، دار الدقاق). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
