Dar-ul-Ifta

بیٹے کا والد کے متروکہ مکانوں میں ہبہ کا دعویٰ کرنا

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا، اور ورثاء میں چار بیٹے چھوڑے اور چار بیٹیاں چھوڑیں۔ مرحوم کا جب انتقال ہوا تو اس نے ترکہ میں کل آٹھ مکان چھوڑے، جن میں تین مکان کرایہ پر تھے اور دو مکان رہائش کے لیے تھے، جن میں دو دو بھائیوں نے رہائش اختیار کی تھی اور ایک مکان جس میں تین دکانیں تھیں وہ بھی کرایہ پر تھیں، اور دو خالی پلاٹ بھی ایک سو بیس گز کےتھے، مذکورہ ورثاء میں ایک بیٹے کا دعوی یہ ہے کہ میرے والد نے اپنی زندگی میں ہی مجھے تمام پلاٹ ہبہ کردیے تھے،اور ایک رہائشی گھر کے متعلق اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک گھر والد صاحب نے بھائیوں کے درمیان نقشہ بنا کر کاغذی کاروائی کر کےتقسیم کردیا لیکن قبضہ نہیں دیا تھا، تمام ورثاء میں اُس بیٹے کے اس دعوی پر اس کے پاس کچھ ثبوت اور گواہ نہیں ہیں اور نہ عدالت کا کوئی فیصلہ ہے، اور بیٹے کا دعوی یہ ہے کہ یہ سب کچھ میرا ہے والد نے مجھے گفٹ کیا ہے، باقی ورثاء کا اس میں کچھ بھی حق نہیں جب کہ باقی ورثاء کا کہنا یہ ہے ہمیں اس گفٹ کے متعلق کوئی علم نہیں ہے، یہ محض اس کا دعوی ہے اس کے پاس ثبوت بھی نہیں ہے، لہذا ہم سب ورثاء اس تمام جائیداد میں وراثت کے حق دار ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ بیٹے کا اس طرح دعوی کرنا درست ہے؟ اگر درست نہیں ہے تو شریعت کی روشنی میں مذکورہ جائیداد کس طرح تقسیم ہوگی۔

Answer

صورت مسئولہ میں بیٹے کو اپنے دعوی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے، اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے، تو بقیہ ورثاء قسم اٹھائیں کہ ہمیں معلوم نہیں کہ والد صاحب نے اُس بیٹے کو یہ پلاٹ ہبہ کئے ہیں، اگر ورثاء قسم اٹھانے سے انکار کریں، تو بیٹے کا دعوی ثابت ہو جائے گا، اور ورثاء کا قسم اٹھانے کی صورت میں والد صاحب(مرحوم) کی تمام قابل تقسیم جائیداد شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔ تقسیم شرعی کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم والد کے کفن دفن کے درمیانی اخراجات ادا کئے جائیں، بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے تبرعا ادا نہ کیئے ہوں، اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الادا قرض یا دیگر مالی واجبات ہوں، تو وہ ادا کر دئیے جائیں ، پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ میں سے ایک تہائی تک اس کو نافذ کر دیا جائے، پھر بقیہ ترکہ کو ورثاء کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کر دیا جائے۔ کل قابل تقسیم ترکہ کے بارہ حصے بنا دیئے جائیں، جن میں بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو (2) حصے اوربیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک حصہ دیا جائے۔ فیصدی لحاظ سے بیٹوں میں سے ہر ایک کو 16.66، اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 8.33 دئے جائیں۔ لمافي قوله تعالى: [يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثين]. [النساء: 12] وفي بدائع الصنائع: ”وأما بيان حجة المدعي عليه... جعل عليه السلام البينة حجة المدعي والسن حجة المدعى عليه“. (كتاب الدعوى، 418/9، رشيدية) وفي التنوير مع الدر: ’’(وإذا ادعى سبق الشراء) ولا بينة (يحلف خصمه على العلم) أي: لا يعلم أنه اشتراه قبله لعامر...‘‘.(كتاب الدعوى: 338/8، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: 181/17