Dar-ul-Ifta

كپڑوں پر خون ديكھا تو كب سے كپڑے ناپاك شمار ہوں گے؟

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مصلى(نماز پڑھنے والے) كو معلوم نہىں كہ كپڑوں مىں خون لگا ہوا ہے، اور اس كو صرف اىك اندازہ ہے كہ اس وقت سے لگا ہوا ہوگا، مثلا دو دن كے بعد كپڑے تبدىل كرتا ہے، پہلے والے كپڑوں مىں خون نہىں تھا، اب ان مىں خون موجود ہے، اور اىك دن سے زىادہ گزرا ان كپڑوں مىں، اور وہ خون اس مصلى كے كپڑوں مىں خارج سے نہىں لگا بلكہ سبلىن سے لگا ہوا ہے اور وہ مصلى نہاتا بھى تھا اور استنجاء وغىرہ بھى كرتا تھا، مگر اس كو ىہ اندازہ نہ ہوسكا كہ خون لگا ہوا ہے، اور اسى طرح مصلى كو ىہ بھى معلوم نہىں كہ كون سى نماز مىں قدر درہم تھا، اور كون سى نماز مىں زىادہ، اور مصلى نے جب خون دىكھا اىك دن سے زىادہ گزرنے كے بعد تو وہ خون درہم سے كئى گنا زىادہ تھا، اب آىا وہ مصلى كتنى نمازىں دہرائے گا، اب آىا وہ سب نمازىں دہرائے گا جو ان كپڑوں مىں پڑھى ہىں ؟

Answer

عناىت فرما كر مشكور وممنون فرمائىں۔ جواب فقہ كا قاعدہ ہے كہ اشىاء كو قرىب تر اوقات كى طرف منسوب كىا جائے گا، لہذا اگر وہ نجاست منى ہے تو جس وقت سو كر بىدار ہوا اس وقت سے نجس سمجھا جائے گا، اگر وہ نجاست پاخانہ ىا پىشاب ہے تو پاخانہ كرنے كى وقت سے نجس سمجھا جائے گا، اور اگر كوئى اور نجاست ہے تو دىكھنے كے وقت سے نجس سمجھا جائے گا۔ لہذا صورت مسئولہ مىں چوں كہ اس كے كپڑوں پر خون لگا ہے اور اس كو معلوم نہىں كہ كب سے لگا ہوا ہے تو جس وقت اس نے خون دىكھا ہے تو اس وقت سے كپڑے نجس سمجھے جائىں گے۔ رہى بات نمازوں كى تو اگر كوئى شخص اپنے كپڑے پر نجاست غلىظہ كا اثر دىكھ لے اور اسے ىہ علم نہ ہو كہ ىہ نجاست كب لگى ہے اور اس مىں وہ نماز پڑھ چكا ہو تو اىسے صورت مىں اس پر گذشتہ نمازوں كى قضاء لازم نہىں۔ لما في الأشباه والنظائر: ’’قاعدة: الأصل إضافة الحادث إلى أقرب أوقاته: منها ما قدمناه فيما لو رأى في ثوبه نجاسة وقد صلى فيه ولا يدري متى أصابته يعيدها من آخر حدث أحدثه‘‘. (القاعدة الثالثة، اليقين لا يزول بالشك: 71، دار الفكر) وفي البحر الرائق: ’’ومن وجد في ثوبه نجاسة أكثر من قدر الدرهم ولم يدر متى أصابته لا يعيد شيئا من صلاته بالاتفاق وهو الصحيح‘‘. (كتاب الطهارة: 218/1، رشيدية) وفيه أيضًا: ’’والجامع بينهما أن الحادث يضاف إلى أقرب أوقاته‘‘. (كتاب الطهارة: 219/1، رشيدية) وفي حاشية ابن عابدين: ’’لو وجد في ثوبه نجاسة مغلظة أكثر من قدر الدرهم ولم يعلم بالإصابة لم يعد شيئا بالإجماع وهو الأصح اهـ. قلت وهذا يشمل الدم فيقتضي أن الأصح عدم الإعادة مطلقا تأمل‘‘. (كتاب الطهارة، مطلب مھم في تعريف الاستحسان: 421/1، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: 185/66