Dar-ul-Ifta

عقد نكاح سے پہلے مہر ادا كرنا

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں لڑكى كا رشتہ اس كا والد ىا بڑا بھائى ىا دادا ىا ان كے نہ ہونے كى صورت مىں چچا طے كرتا ہے، رشتہ ہونے كے بعد لڑكا ىا اس كا والد مہر كى رقم اس كے ولى (والد) كو ادا كرتا ہے، پھر رخصتى كے وقت ولى كبھى كل مہر لڑكى كے لىے ركھتا ہے اور سامان اپنى طرف سے اپنى رقم سے خرىدتا ہے، كبھى كچھ رقم كا سامان خرىدتا ہے، اور كچھ لڑكى كو دىتا ہے اور كبھى كچھ كا تھوڑا بہت سامان خرىدتا ہے ، باقى رقم خود اپنے گھر كى ضرورىات ىا قرض ادا كرنے مىں استعمال كرتا ہے، پھر جب رخصتى ہوتى ہے، تو نكاح پڑھانے والے مولانا صاحب اس غرض سے، كہ شاىد مہر لڑكى كو نہ ملا ہو احتىاطا كچھ مہر مثلا: آٹھ دس ہزار مقرر كرتے ہىں، جو فى الفور ادا كىا جاتا ہے۔ اب پوچھنا ىہ ہے كہ نكاح پڑھاتے وقت احتىاطا كچھ مہر مقرر كرنا چاہئے ىا جو پہلے مقرر كىا ہے وہ كافى ہے؟ اور اگر احتىاطا مقرر كرنا چاہئے تو كل كو مہر شمار كىا جائے گا ىا نكاح كے وقت مقرر كىا ہوا؟

Answer

واضح رہے كہ شوہر كے ذمے مىں مہر كا ادا كرنا عقد نكاح كے بعد واجب ہوتا ہے۔ عقد نكاح سے پہلے واجب نہىں، لىكن اگر كسى جگہ عرف ہے كہ مہر پہلے ادا كىا جاتا ہے، تو اس سے مہر ادا ہوجاتا ہے، لہذا اسى مہر پر نكاح كىا جائے اور لكھ دىا جائے كہ مہر ادا كردىا گىا ہے، اور دوبارہ عقد نكاح كے وقت احتىاطا كچھ مہر مقرر كرنا اس غرض سے كہ شاىد مہر لڑكى كو نہ ملا ہو اس كى ضرورت نہىں۔ نوٹ: مہر خالص لڑكى كا حق ہے، والد ىا كسى اور سرپرست كے لىے اس مىں لڑكى كى اجازت اور ان كى رضا مندى كے بغىر تصرف كرنا شرعا جائز نہىں۔ لما في البدائع: ’’المھر في النكاح الصحيح يجب بالعقد؛ لأنہ إحداث الملك، والمھر يجب بمقابلة إحداث الملك؛ ولأنہ عقد معاوضة وھو معاوضة البضع بالمھر فيقتضي وجوب العوض كالبيع‘‘. (كتاب النكاح، فصل في بيان ما يجب بہ المھر: 513/2، رشيدية) وفي الرد: ’’ثم عرف المھر في العناية بأنہ اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع‘‘.(كتاب النكاح، باب المھر: 219/4، رشيدية) وفي الفتاوى التاتارخانية: ’’الظھيرية: سئل شيخ الإسلام عمن خطب إلى إنسان ابنتہ فقال: «إن نقدت المھر كذا إلى خمسة أشھر وأتيني بہ زوجتھا، فذھب الرجل وتكلف فكان يھدى إلى ھذا الرجل ھدايا ويبعث إليہ أشياء فمضت خمسة أشھر، ولم يقدر على نقد ذلك المھر فلم يزوجہ ابنتہ ھل لہ أن يسترد ما دفع إليہ قال: لہ ذلك فيما دفع عن وجہ المھر قائما أو ھالکا‘‘. (كتاب النكاح، فصل:فی المھر، 182/4، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi

Fatwa No.: