
دوسرے شخص کے مخلوط مال میں شرکت کا حکم
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی دکان میں خشک میوہ جات ہیں (پستہ، بادام، اخروٹ وغیرہ) اور ساتھ میں کھلو نے بھی رکھیں ہیں، جس میں عمارتیں، چڑیا، اونٹ (یعنی تصویروں والی چیزیں) بھی فروخت کرتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ چیزیں بھی بہت مہنگی بیچتا ہے، (مثلا: 50 کی چیز 500 میں، اور 100 کی 1000 میں) اور اگر خریدار ادا ئیگی کارڈ سے کرتا ہے، تو دوکاندار اس سے 100 کی جگہ 1000 اور 200 کی جگہ 2000 کاٹتا ہے، اب یہ شخص اس رقم سے دوسری جگہ دوکان خریدتا ہے کپڑے سوٹ وغیرہ بیچنے کے لئے، اور اس دوکان میں دو سرے آدمی کو نفع میں سے 25 فیصد شریک بناتا ہے، اب آیا شراکت کا یہ نفع دوسرے آدمی کے لئے جائز ہے یا نہیں۔
Answer
صورت مسئولہ میں دوسرے آدمی کو اگر علم ہو کہ مالک نے دوکان کی چیزیں خالص حرام مال سے یا حلال و حرام مخلوط مال سے خریدی ہیں، لیکن حرام مال اس میں غالب ہے، تب تو ایسی دوکان پر کام کرنا اور اس سے نفع لینے کی اجازت نہیں ہے، اور اگر غالب مال حلال ہو تب کام کرنا اور نفع لینے کی گنجائش ہے، البتہ اس آدمی کو چاہیے کہ کسی دوسرے غیر مشتبہ اور پاکیزہ روزگار کی کوشش کرے۔ لما في المحتار: ’’(وإن أشار إليھا ونقد غيرها أو)أشار (إلى غيرها)، ونقدها (أو أطلق) ولم يشر... واحتار بعضھم الفتوى على قول الكرخي في زماننا لكثرة الحرام، وھذا كله على قولھما، وعند أبي يوسف رحمه الله: لا يتصدق بشئ منه كما لو تلف الجنس‘‘. ’’قوله: (كما لو اختلف الجنس) قال الزيلعي وھذا لاختلاف بينھم فيما إذا صار بالتقلب من جنس ماضمن بأن ضمن دراھم مثلا وصار في يده من بدل المضمون دراھم، ولو طعام أو عروض لا يجب عليه التصدق بالاجماع؛ لأن الربح إنما يبين عند اتحاد الجنس، وما لم يصر بالتقلب من جنس ما ضمن لا يظھر الربح‘‘. (كتاب الغصب، مطلب شرعى دارا: 318/9، رشيدية) وفي قاضي خان: ’’ولا يجوز قبول ھدية أمراء الجود؛ لأن الغالب في مالھم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله جلال بائن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به لأن أموال الناس لا تخلوا عن قليل حرام فالمعتبر الغالب‘‘. (كتاب الحظ والإباحة فصل: في الھدايا (149/9، رشيدية) وفي صحيح البخاري: حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب ... عن سعيد بن أبي الحسن قال كنت عند ابن عباس رضي الله عنھما إذ أتاه رجل فقال: ’’يا أبا عباس إلي إنسان إنما معيشني من صنعة يدي وإلي أصنع هذه التصاوير. فقال ابن عباس لا أحدثك إلا ما سمعت، رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول سمعته: من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيھا الروح وليس بنافخ فيھا أبدا، فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجھة فقال: ويحك إن أبيت إلا أن تصنع فعليك بھذه الشجر كل شئ ليس فيه روح‘‘. (كتاب البيوع، باب بيع التصاوير التي ليس فيھا روح، رقم الحديث:2225، دار السلام). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
