
جانوروں میں شرکت کا جائز طریقہ
Question
کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زیدنے عمرو کو پچاس ہزار دیے اور کہا کہ اس سے بکریاں خریدو اور پھر ان کی دیکھ بھال بھی کرو (یعنی انہیں دانہ وغیرہ کھلاؤ) اور اس کا خرچہ ہم دونوں پر برابر تقسیم ہوگا اور جب ہم بکریاں بیچیں گے، تو پہلے میں اپنےپچاس ہزار نکالوں گا پھر باقی پیسے برابر برابر تقسیم کرینگے اور اگر نقصان ہوا تو بھی ہم دونوں میں تقسیم ہوگا، آیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو براہ کرم جواز کی صورت بھی تحریر فرمائیں۔
Answer
مذکورہ صورت درست نہیں ہے۔ جواز کی صورت یہ ہے کہ زید عمرو کو اپنی کل رقم کا ایک تہائی یا نصف مثلاً: تیس (30000) ہزار میں سے دس (10000) ہزار یا بیس (20000) قرض دے کر اس کے ساتھ شرکت کر لے اور عقد میں عمل کی شرط دونوں پر لگا دیں، عقد کے بعد عمل اگر چہ ان میں سے کوئی ایک کرے اور خرچہ دونوں پر ان کی مالیت کے بقدر ہوگا اور دونوں نفع کا تناسب متعین کر لیں مثلا: ایک تہائی زید کا اور باقی عمرو کا، بشرطیکہ غیر عامل کا نفع عامل کے نفع سے زیادہ نہ ہو اور نقصان دونوں پر ان کی مالیت کے بقدر ہوگا۔ لما في النتف: ’’والخامس ان يدفع رب المال ماله إلى المضارب ويشترط عليه الربح بنصفين والوضيعة بنصفين فھي فاسدة، وفي قول ابي يوسف الربح يكون لرب المال والوضيعة عليه، ففي جميع هذه الوجوه الخمسة يكون الربح لرب المال وتكون الوضيعة عليه، ويكون للمضارب أجر المثل وان هلك المال على يده فلا ضمان عليه؛ لانه أمين وان كانت المضاربة فاسدة‘‘. (كتاب المضاربة، 329، رشيدية) وفي التاتارخانية: ’’قال علماءنا: شركة العنان جائزة، سواء تساويا في رأس المال أو تفاضلا، ويجوز أن يشترط لأحدهما فضل الربح، إذ العمل عليھا جائزة عند علمائنا الثلاثة، وتكون زيادة الربح بمقابلة العمل... وإذا شرط العمل عليھما فالربح بينھما على ما شرطا وإن عمل أحدهما دون الآخر‘‘. (كتاب الشركة ، الفصل الرابع: في العنان، 491/7، فاروقية) وفي الرد: ’’فما كان من ربح فھو بينھما على قدر رءوس أموالھما، وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك، ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل‘‘. (كتاب الشركة، مطلب اشتراط الربح متفاوتا صحيح بخلاف اشتراط الخسران، 469/6، رشيدية) وفيه أيضا: ’’وفي النھر: اعلم أنھما إذا شرطا العمل عليھما إن تساويا مالا وتفاوتا ربحا جاز عند علمائنا الثلاثة خلافا لزفر والربح بينھما على ما شرطا وإن عمل أحدهما فقط‘‘. (كتاب الشركة، مطلب في توقيت الشركة روايتان، 478/6، رشيدية) وفي تبيين الحقائق: ’’قال رحمه الله: (وتصح مع التساوي في المال دون الربح وعكسه) وهو أن يتساويا في الربح دون المال، ومعناه أن يشترطا الأكثر للعامل منھما أو لأكثرهما عملا، وإن شرطاه للقاعد أو لأقلھما عملا فلا يجوز، وقال زفر رحمه الله يستحقان الربح على قدر مالھا، ولا يجوز أن يشترطا خلاف ذلك لأنه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن؛ لأن الضمان بقدر رأس المال، ولھذا لا يجوز اشتراط الوضيعة على خلاف رأس المال فكذا الربح، ولنا قوله عليه الصلاة والسلام (الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين)‘‘. (كتاب الشركة، 4/ 244، 245، دار الكتب العلمية). فقط.واللہ تعالٰی اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
