
جائیداد بغیر تقسیم کئے صرف بیٹوں کے نام کرنا
Question
کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنے گھر پر موجود بیٹوں کے لیے فٹوار میں جائیداد لکھ دیا اور فٹوار میں صرف ان کے نام لکھ دیں ہیں کہ یہ ان کا حصہ ہےبغیر تقسیم کیے۔ اب اس کا ایک بیٹا جو باہر ملک میں تھا اپنے والد کے وفات کے بعد دعویٰ کیا کہ اس میں میرا بھی حصہ بنتا ہے کیا اس صورت میں صرف فٹوار میں ان کے نام لکھنے سے یہ ان بیٹوں کا حصہ ہےیا کہ جو بیٹا بعد میں دعویٰ کرتا ہے اس کا بھی اس میں حصہ ہے۔
Answer
واضح رہے کہ زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا شرعا ہدیہ ہے اور زمین میں ہدیہ کے تام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زمین کو تقسیم کر کے ہر ایک کو ان کا حصہ دیا جائے۔ صورت مسئولہ میں چوں کہ والد نے تقسیم کیے بغیر زمین صرف بیٹوں کے نام کی ہے، اس لیے یہ ہدیہ تام نہیں ہے، اب والد کی وفات کے بعد یہ زمین ان کے تمام ورثاء کے درمیان شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔ لما في التنوير مع الدر: ’’وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي: بلا عوض‘‘. (كتاب الھبة: 567/8، رشيدية) وفيه أيضا: ’’وشرائط صحتھا في الموھوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول... وحكمھا: ثبوت الملك للموھوب غير لازم‘‘. (كتاب الھبة: 569/8، رشيدية) وفي الفتاوى السراجية: ’’الھبة لا تفيد الملك إلا بالقبض، الموھوب له لو قبض في المجلس جاز... إذا وھب لابنه (الكبير) وھو في عياله يشترط قبض الابن‘‘. (كتاب الھبة: 394،393، زمزم). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
;" > ھبہ(ہدیہ)
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
