
بینک سے قرض پر لی ہوئی رقم کو کسی کاروبار میں لگانا
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے مجبوری کی حالت میں بینك سے قرضہ لیا، تو بینک کا پیسہ کاروبار میں استعمال کرنا کیسا ہے؟اگر بینک کے پیسے میں کچھ شبہ ہے تو اب اس کے حلال کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟
Answer
واضح رہے کہ بینک سے سود پر قرضہ لینا ناجائز اور حرام ہے، البتہ اس رقم کو کسی کاروبار میں لگانا درست ہے، بہتر یہ ہے کہ کسی اور سے قرضہ لے لیا جائے۔ لما في التنزیل: [يا ايھا الذين امنوا لا تأكلو الربا أضعافا مضعفة، واتقوا الله لعلكم تفلحون]. (سورة أل عمران، الآية: 130) وفي الرد: ’’ قوله: (كل قرض جر نفعا حرام). أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة‘‘.(كتاب البيوع، 413/7، رشيدية) وفي البحر: ’’ولا يجوز قرض جر نفعا بأن أقرضه دارھم مكسرة بشرط رد صحيحة..‘‘. (كتاب البيع، تتمة في القرض، 204/6، دار المعرفة). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
قرض کے احکام
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
