
ایڈوانس بیلنس کی واپسی پر اضافی بیلنس لینے کا حکم
Question
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موبائل کمپنیوں کے ایڈوانس بیلنس کی واپسی پر اضافی بیلنس لیتے ہیں، بعض لوگ اسے سود بھی کہتے ہیں، لیکن ایک فتوی میں دیکھا تھا کہ اس کا حکم اجارہ ہے، اب اجارہ اور سود میں فرق سمجھا دیں تاکہ بات واضح ہو جائے۔
Answer
واضح رہے کہ اجارہ عوض کے مقابلے کسی چیز کے نفع کا مالک بننے کا نام ہے، چناں چہ صورت مسئولہ میں ایڈوانس بیلنس کی واپسی پر کمپنی والے جو اضافی رقم کاٹتے ہیں، وہ جائز اجارہ کی ایک صورت ہے، جس میں صارف کمپنی والوں سے ان کے نیٹ ورک کو اجرت پر لیتا ہے، ادھار ہونے کی وجہ سے کمپنی والے اس کے عوض میں عام معمول سے کچھ زیادہ اجرت لیتے ہیں، جب کہ سود اس زیادتی کو کہا جاتا ہے جو عقد میں بغیر کسی عوض کے ہو، متعاقدین میں سے کسی نے اس کی شرط لگائی ہو اور جنس بھی ایک ہو، مذکورہ معاملے پر سود کی تعریف صادق نہیں آتی، تاہم اجتناب بہر حال بہتر ہے۔ لما في التنوير مع الدر: ’’(ھي) لغة: إسم للأجرة، وشرعًا: (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استاجر ثيابا... أو غير ذلك لا يستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل‘‘. (كتاب الإجارة، 9/6، رشيدية) وفيه أيضا: ’’ھو لغة: مطلق الزيادة، وشرعًا: (فضل).... (خال عن عوضٍ) خرج مسالة صرف الجنس بخلاف جنسه (بمعيار شرعي) وھواللكيل والزن فليس الذرع والعدد بربا (مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر، فلو شرط لغيرھما فليس بربا بل بيعا فاسدا (في المعاوضة) فليس الفضل في الھبة بربا‘‘.(كتاب البيوع، باب الربا، 416/7، رشيدية) وفي البحر: ’’ھي بيع منفعة معلومة بأجر معلوم وما صح ثمنا صح أجرۃ و المنفعة تعلم ببيان المدة كالسكنى والزراعة فتصح على مدة معلومة‘‘. (كتاب الإجارة، 506/7، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
قرض کے احکام
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
