
آفیسر کا صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے تنخواہ حرام ہوگی یا نہیں؟
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی بطور آفیسر کام کرتا ہے، جب کوئی غریب آدمی جرم کا مرتکب ہو، آفیسر فورا ًان پر رپورٹ درج کرتا ہے، اور اگر امیر ہو تو رپورٹ درج کرنے میں تاخیر کرتا ہے، حتی کہ ان پر رپورٹ درج نہیں کروائی جاتی۔ اسی طرح اگر غریب آدمی کسی پر رپورٹ لکھنے آتا ہے، تو بہت سے بہانے تلاش کرتا کہ رپورٹ درج کرنے سے رہ جاتی ہے اور اگر امیرا آدمی کسی کے خلاف رپورٹ درج کرتا ہے، تو فوراً لکھتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح فرق کرنے سے صرف قانون کی خلاف ورزی ہے؟ یا تنخواہ بھی حرام ہے؟ شریعت کی رو سے
Answer
مطلوب ہے۔ وضاحت: مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ آفیسر امیر لوگوں سے پیسے وغیرہ لے کر ان کا کام کرتا ہے۔ جواب واضح رہے کہ ملک میں کسی شخص کا کسی عہدے پر فائز ہونے کا مطلب تمام لوگوں کی امور ومصالح کی رعایت کرنا ہے، اور ان کے درمیان برابری اور انصاف سے کام لینا ہے اور اگر کوئی عہدے دار ظلم وزیادتی سے کام لیتا ہے، تو وہ ملک اور قوم کا خائن اور گناہ کا ارتکاب کرنے والا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ آفیسر کو چاہے کہ جس کام کے لیے اس کو رکھا ہے اس کو بخوبی انجام دے اور انصاف سے کام لے اور اگر کام نہیں کرتا یا متعین کردہ کام کے خلاف کرتا ہے، تو اس صورت میں اس کی تنخواہ اتنی مقدار حرام ہوگی جتنی مقدار کام نہیں کرتا، یا متعین کردہ کام کے خلاف کرتا ہے اور لوگوں سے جو پیسے بطور رشوت لیتا ہے، وہ اس کے لیے حلال نہیں بلکہ حرام ہیں، ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ لما في الدر مع الرد: ’’وليس للخاص أن يعمل لغيره ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل‘‘. ’’ قوله: (وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة، قال في التاتر خانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشئ آخر سوى المكتوبة. وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضا، واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا، وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجر بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط بشئ فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النھار يحط عنه ربع الأجرة. قوله: (ولو عمل نقص من أجرته الخ) قال في التاتر خانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فھو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة‘‘. (كتاب الإجارة، مطلب ليس للخاص أن يصلي النافلة، 118/9، رشيدية) وفي النتف: ’’فإن وقعت على عمل معلوم فلا تجب الأجرة الا بإتمام العمل إذا كان العمل مما لا يصلح أوله إلا بآخره، وإن كان يصلح أوله دون آخره فتجب الأجرة بمقدار ما عمل‘‘. (كتاب الاجارة، ص:338، رشيديه) وفي الفتاوى الولوالجية: ’’إذا استأجر يوم للحصاد أو للخدمة فحصد في بعض الأيام أو خدم لغيره لا يستحق الأجر كاملاً، ويأثم‘‘.(كتاب الإجارة، الفصل الأول فيما تجوز الاجارة، 331/3، فاروقية) وفي الدر مع الرد: ’’ثم الرشوة أربعة أقسام منھا ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة عليه تقليد القضاء والإمارة، الثاني ارتشاء القاضي ليحكم وھو كذلك ولو القضاء بحق لأنه واجب عليه‘‘. (كتاب القضاء، مطلب في الكلام على الرشوة والھدية، 42/8، رشيدية) وفي البحر الرائق: ’’الرشوة على وجوه أربعة منھا.... الثاني إذا دفع الرشوة إلى القاضي ليقضي له حرم من الجانبين سواء كان القضاء بحق أو بغير حق‘‘. (كتاب القضاء، فصل في التقليد، 441/6، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
Dar-ul-Ifta, Jamia Farooqia Karachi
Fatwa No.:
;" > اجارہ
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
