دار الإفتاء

مکروہ اوقات میں ذکر و دعا اور تلاوت کا حکم

السؤال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ممنوعہ یا مکر وہ وقت میں دعا مانگ سکتے ہیں، مثال کے طور پر اگر ایک شخص فجر کے اخیر وقت میں نماز کی ادائیگی کرتا ہے اور نماز ختم کرتے ہوئے دعا لمبی ہونے کے سبب ممنوعہ وقت داخل ہو جاتا ہے، تو کیا حکم ہے؟ نیز ان اوقات کار میں تلاوت قرآن پاک اور اذکار کا کیا حکم ہے؟

الجواب

واضح رہے کہ اوقات مکروہ میں دعا اور تسبیح میں مشغول رہنا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے، اور قرآن مجید کی تلاوت بھی کر سکتے ہیں۔ لما في البحر الرائق: ’’الصلاة على النبي في الأوقات التي تكره فيھا الصلاة والدعاء والتسبيح أفضل من قراءة القرآن اھ. ولعله؛ لأن القراءة ركن الصلاة وهي مكروهة فالأولى ترك ما كان ركنا لھا‘‘. (كتاب الصلاة، 437/1، رشيدية) وكذا في حاشية الطحطاوي على المراقي: (كتاب الصلاة، فصل في الأوقات المكروهة، 186، رشيدية). وكذا في النھر الفائق: (كتاب الصلاة، 166/1، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: