دار الإفتاء

متنفل کی اقتداء میں تراویح پڑھنے کا حکم

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں کہ: ۱ حرمین میں آخری عشرہ میں دس رکعات تراویح کے علاوہ رات کے آخری حصہ میں دس رکعات قیام اللیل ہوا کرتی ہے جو کہ ظاہر ہے نفل نماز ہے۔ کیا حنفی مقتدیوں کے لیے اس میں بنیت تراویح (جو کہ سنت مؤکدہ ہے) شرکت درست ہے ؟ ۲ نیزنفل پڑھنے والے امام کی اقتداء میں تراویح کی نیت سے شامل ہونے والے شخص کی نماز کے جائز یا نا جائز ہونے کے بارے میں کیاموقف ہے؟ الف) نفل پڑھنے والے امام کی اقتداء میں تراویح کی نیت سے شامل ہونے سے بلا کراہت تراویح ادا ہو جائے گی۔ ب)نفل پڑھنے والے امام کی اقتداء میں تراویح کی نیت سے شامل ہونے سے تراویح کراہت کے ساتھ ادا ہو جائے گی۔ ( تصریح کردیں کہ مکروہ تحریمی یا تنزیہی؟) ج)نفل پڑھنے والے امام کی اقتداء میں تراویح کی نیت سے شامل ہونے سے تراویح بالکل ادا نہیں ہو گی۔

الجواب

۱،۲ واضح رہے کہ اقتداء کے صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مقتدی کی نماز کی حیثیت امام کی نماز کی حیثیت سے کم، یا امام کے برابر ہو، ور نہ اقتداء درست نہیں ہو گی، جبکہ تراویح احناف کے ہاں سنت مئوکدہ ہے، اور درجہ میں نفل سے بڑھ کر ہے، اس لئے تراویح پڑھنے والے کی اقتداء متنفل کے پیچھے درست نہیں ہے، لہذا صورت مسئولہ میں حرمین شریفین میں رات کے آخری حصہ میں باجماعت نفل پڑھنے والوں کی اقتداء میں حنفی مقتدیوں کے تراویح کی نیت سے شریک ہونے سے تر او یح ادا نہیں ہوگی۔ لما في البدائع: ’’لا يصلي إمام واحد التراويح في مسجدين في كل مسجد على الكمال ولا له فعل ولا يحتسب التالي من التراويح وعلى القوم أن يعيدوا لأن صلاة إمامھم نافلة وصلاتھم سنة والسنة أقوى فلم يصح الاقتداء لأن السنة لا تتكرر في وقت واحد‘‘. (كتاب الصلاة، صلاة التراويح: 647/1، بيروت) وفي البناية: ’’ولو اقتدى بمن يصلي مكتوبة أو وترا أو نافلة غير التراويح قال في ”المحيط“ قيل يجوز والأصح أنه لا يجوز، كذا في الذخيرۃ‘‘. (كتاب الصلاة، باب النوافل: 112/3، الحقانية) وفي البحر الرئق: ’’لو صلى التراويح مقتديا بمن يصلي المكتوبة أو بمن يصلي نافلة غير التراويح، اختلف المشايخ فيه والصحيح أنه لا يجوز‘‘. (كتاب الصلاة، باب الإمامة: 639/1، رشيدية) وفي الموسوعة الفقھية الكويتية: ’’اختِلافُ صِفَةِ الإِمَامِ وَالمُقْتَدِي: الأصل أَنَّ الإِمَامَ إِذَا كَانَ أَقْوَى حَالاً مِنَ الْمُقْتَدِي أَوْ مسَاوِبًا لَهُ صَحَّتْ إِمَامَتُهُ اتفَاقًا‘‘. (إمامة الصلاة، اختلاف صفة الإمام والمقتدي: 209/6، علوم اسلامية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: