
DARUL IFTA
JAMIA FAROOQIA KARACHI
SHAH FAISAL COLONY BLOCK 4.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
شاہ فیصل کالونی نمبر 4، کراچی، پوسٹ کوڈ 75230
حیض کی ابتداء اور انتہاء کی پہچان
حیض کی ابتداء اور انتہاء کی پہچان
السؤال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت کا حیض کب شروع ہوگا؟ جب خون اندرونی شرم گاہ سے باہر نہ نکلا ہو، لیکن روئی اندرونی شرم گاہ میں رکھنے سے خون کا دھبہ روئی پر لگ جائے، تو اب حیض کی ابتداء ہو جائے گی، یا خون کا از خود باہر آنا ضروری ہے؟ نیز حیض کے ختم ہونے کے لیے سفید پانی آنا ضروری ہے یا صرف خون کا بند ہونا کافی ہے؟
الجواب
صورت مسئولہ میں اگر خون کا دھبہ روئی کی اندرونی جانب ہے، اور بیرونی جانب سرایت نہیں کیا تو یہ حیض میں شمار نہیں ہوگا، ہاں البتہ جب روئی نکالی جائیگی تو حیض شروع ہوگا، لہذا خون از خود باہر آنا ضروری نہیں، اگر روئی کے ساتھ لگ کر باہر آجائے تو بھی حیض ہی شمار ہوگا، کیوں کہ حیض کے لیے خون کا نکلنا ضروری ہے، چاہے جیسے بھی ہو، اور حیض کے بند ہونے کے لیے خون کا بند ہو جانا کافی ہے، سفید پانی آنا ضروری نہیں ہے۔ لما في الصحيح للبخاري: ’’(كن نساء يبعثن إلى عائشة بالدرجة فيھا الكرسف، فيه الصغرة فتقول: لا تعجلن حتى ترين القصة البيضاء تريد بذلك الطھر من الحيضة)‘‘. (كتاب الحيض، باب اقبال المحيض وادباره: 52/1، دار السلام) وفي رسائل ابن عابدين: ’’(ثم ان الكرسف إما أن يوضع في الفرج الخارج أو الداخل)...... (وفي الأول إن ابتل شيء منه) أي: الكرسف ولو لجانب الداخل منه في الفرج الخارج (يثبت الحيض) في الحائض.... (وفي الثاني) أي: وضعه في الفرج الداخل (إن ابتل الجانب الداخل) من الكرسف (ولم تنفذ البلة) أي: لم تخريج (إلى ما يحاذي حرف الفرج الداخل لا يثبت شيئ) من الحيض ونقض الوضوء (إلا أن يخرج الكرسف) فحينئذ يثبت الحيض ونقض الوضوء لا من زمان الإبتلال لما مر أن الشرط الخروج دون الاحساس، فلو أحست بنزول الدم إلى الفرج الداخل، وعلمت بابتلال الكرسف به من الجانب الداخل فقط، فلم تخرجه إلى اليوم الثاني، لم يثبت الله حكم إلا الوقت الإخراج أو نفوذ البلة‘‘. (الرسالة الرابعة، منھل الواردين.....، 169/1، الأزهرية للتراث) وفي التنوير مع الرد: ’’والقصة.....: الجصة، والمعنى أن تخرج الدرجة كأنھا قصة لا يخالطھا صفرة ولا تربية، و هو مجاز عن الإنقطاع (سوى بياض خالص) قيل ھو شئ يشبه الخيط الأبيض.... . قال الرافعي: قول الشارح: (قيل ھو شئ الخ) عبر عنه بقيل إشارة إلى ضعفه، والراجح أنه عبارة عن إنقطاع الدم والوانه بالكلية‘‘. (كتاب الطھارة، مطلب: لو أفتى مفت...، 530/1، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى: 181/185