
جى پى فنڈ پر سود لىنے كا حكم
السؤال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مىں سركارى ملازم ہوں، حال ہى مىں نئى نوكرى لگى ہے، تنخواہ كا فارم بھرنے سے پہلے وہاں لكھا ہوتا ہے كہ آپ جی-پی پر سود لىنا چاہتے ہىں ىا نہىں، تو مىں نے سود نہ لىنا پسند كىا، لىكن پھر مجھے سوچىں آ رہى ہىں كہ كسى مفتى صاحب سے پوچھ لىا جائے، كىوں كہ اكثر جىسا ہم سوچ رہے ہوتے ہىں وىسا ہوتا نہىں ہے، كہىں نہ كہىں گنجائش نكل ہى آتى ہے۔ اب كىا ىہ انٹرسٹ جو حكومت دى رہى ہے وہ صحىح ہے؟ اسلامك بینك وغىرہ مىں جو انٹرسٹ ملتا ہے وہ تو صحىح ہوتا ہے، تو پھر انٹرسٹ كے بارے مىں تھوڑى معلومات سے آگاہ كردىں۔
الجواب
واضح رہے كہ جى پى فنڈ مىں ملازمىن كى تنخواہوں سے كٹوتى ، سركار والوں كى طرف سے جبرى اور لازمى ہوتى ہے، لہذا رىٹائر منٹ ہونے پر سركار والوں كا اس پر اضافى رقم دىنا، ان كى طرف سے تبرع اور احسان ہے، شرعا سود نہىں، لہذا اضافى رقوم آپ كے لىے جائز ہے۔ لما في التنوير مع الدر: ’’(و) اعلم أن الأجر لا يلزم بالعقد فلا يجب تسليمہ بہ (بل بتعجيلہ أو شرطہ في الإجارة) المنجزة، أما المضافة فلا تملك فيھا الأجرة بشرط التعجيل إجماعًا‘‘. وتحتہ في رد المحتار: ’’ قولہ: (لا يلزم بالعقد) أي لا يملك بہ كما عبر في الكنز؛ لأن لأن العقد وقع على المنفعۃ وھي تحدث شيئا فشيئا، وشأن البدل أن يكون مقابلًا للمبدل، وحيث لا يمكن استفائھا حالًا، لا يلزم بدلھا حالًا إذا شرطہ وحكمًا بأن عجلك‘‘. (كتاب الإجارة: 17/9، رشيدية) وفي صحيح البخاري: حدثني محمد بن المثنى: حدثنا ابن أبي عدي عن ابن عون، عن الشعبي قال: سمعت النعمان بن بشير رضي اللہ عنہ يقول: سمعت النبي صلى اللہ عليہ وسلم..... حدثنا محمد بن كثير: أخبرنا سفيان عن أبي فروة... قال النبي صلى اللہ عليہ وسلم: «الحلال بين، والحرام بين، وبينھا أمور مشتبھة، فمن ترك ما تشبہ عليہ من الإثم كان لما استبان أترك، ومن اجترأ على ما يشك فيہ من الإثم أو شك أن يواقع ما استبان، والمعاصي حمى اللہ، من يرتع حول الحمى يوشك أن يواقعك‘‘. (كتاب البيوع، الحلال بين، والحرام بين....:329/1، رقم الحديث:2051، دار السلام). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي
رقم الفتوى:
احکام و مسائل
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
