دار الإفتاء

بىنك سے سودى قرض لے كر مبىع خرىدنے كا شرعى حكم

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زىد اپنى گاڑى بىچنا چاہتا ہے لىكن ان كو كوئى مشترى نہىں ملا، اسى وجہ سے زىد نے اپنى گاڑى كسى اىجنٹ كو بىچنے كى غرض سے حوالہ كردى ہے۔ پھر اىجنٹ نے مشترى كو تلاش كر كے بىنك سے قرض لے كر زىد كى گاڑى كى قىمت ادا كردى ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح بىع و شراء كرنا زىد كے لىے شرعا جائز ہے؟ وضاحت: مستفتى سے پوچھنے پر معلوم ہوا كہ بىنك سے قرض رقم لىنے والا مشترى ہے۔

الجواب

صورت مسئولہ مىں مذكورہ خرىد و فروخت جائز ہے، البتہ بىنك سے سودى قرض لىنا نا جائز ہے۔ لما في التنزيل: ﴿ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُہ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّہمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللّٰہ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ﴾. (سورة البقرة، رقم الآية: 275) وفي التنوير مع الدر: ’’(ھو)....... (مبادلة شيء مرغوب فيہ بمثلہ)...... (مبادلة شيء مرغوب فيہ بمثلہ على وجہ ) مفيد (مخصوص) أي بإيجاب أو تعاط‘‘. (كتاب البيوع: 7/7، رشيدية) وفيہ أيضًا: ’’(فلو استقرض الدراھم المكسورة على أن يؤدي صحيحًا كان باطلًا) ...... وفي الخلاصة: القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب بہ إلى بلد كذا ليوفي دينہ، وفي الأشباہ: كل قرض جر نفعًا حرام‘‘. (كتاب البيوع، فصل في القرض: 413/7، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دار الإفتاء، جامعة فاروقية كراتشي

رقم الفتوى: