
گوٹھ میں بجلی لانے والے ٹھیکیدار کے ساتھ شراکت کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ٹھیکیدار گوٹھ والوں سے گوٹھ میں بجلی لانے کا معاہدہ کرتا ہے، فی گھر 55000 روپے وصول ہونا طے پاتے ہیں، اب اگر ٹھیکیدار اپنے ساتھ کسی دوسرے شخص کے پیسے انویسٹ کرتا ہے آیا یہ انویسٹمنٹ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو ٹھیکیدار اور دوسرے شخص میں نفع کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ وضاحت: بجلی کا تمام سامان اور مکمل عمل بد ستور کے الیکڑک والوں کا ہوتا ہے، گوٹھ میں بجلی آنے کے بعد ٹھیکیدار کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ انویسٹمنٹ بطور شرکت کے ہے۔
جواب
واضح رہے کہ گوٹھ تک بجلی کی سپلائی کا معاہدہ ٹھیکیدار نے کیا ہے، دوسرے شخص نے نہیں، اس لیے دوسرے شخص کی اس معاہدہ میں شرکت درست نہیں، جو رقم انویسٹ کی ہے وہ قرض ہے اور قرض پر نفع لینا درست نہیں۔ لما فی النتف فی الفتاوی: ’’والاجارۃ لا تخلو من وجھين: إما أن وقعت على عمل معلوم، فإن وقعت على عمل معلوم فلا تجب الأجرة إلا بإتمام العمل إذا كان العمل سما لا يصلح أو له إلا بآخرة، وإن كان يصلح أوله دون آخره فتجب الأجر بمقدار ما عمل‘‘. (كتاب الإجاره، ص:338، رشيدية) وفي التنوير مع الرد: ’’(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار وںحوه) كقتال وحمال ولال وملاح، وله خيار الرؤية في كل عمل يختلف باختلاف المحل‘‘. (كتاب الإجارة، 109/9، رشيدية) وفي التنوير: ’’ھو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثلي لآخر ليرد مثله‘‘. (كتاب البيوع فصل في القرض، 406/7، رشيدية). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:
