
کسی شخص کے ذمہ بہت قرض ہو اور دائن معلوم نہ ہو تو حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پچاس سالہ آدمی جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہے، اسکی ایک نماز بھی خشوع و خضوع سے ادا نہیں ، ہر قسم کے گناہ کبیرہ و صغیرہ اس سے سرزد ہوئے، حرام اتنا کھایا کہ معلوم نہیں کس کس سے کھایا اور اللہ تعالی کے احکامات توڑتے توڑتے تھک گیا۔ اب وہ اپنے گناہوں سے صدق دل سے توبہ کر چکا ہے۔ اسے سکون قلب کیلئے کیا کرنا چاہیے؟ اور نماز، حرام خوری الغرض ہر قسم کے گناہ کبیر و صغیرہ اور اس میں ایسے گناہ بھی شامل ہیں جو اسکو یاد بھی نہیں، ان سب کا کفارہ اور حکم کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں کہ ((اے میرے محبوب! میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ اے میری بندو! جنہوں نے (گناہ کر کے) اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اللہ تعالی کی رحمت سے نا امید مت ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ تمام (جھوٹے بڑے) گناہوں کو معاف فرماتے ہیں، بے شک وہی بہت معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے)) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت گناہگاروں کے لیے، قرآن کی سب اٰیتوں سے زیادہ امید افزا ہے۔ (معارف القرآن) لہذا جتنا حرام مال اس شخص کے پاس موجود ہے۔ اگر اس کا مالک معلوم ہے تو کسی طرح اس کو پہنچا دے، اگر مالک معلوم نہیں تو اس حرام مال کو، ثواب کی نیت کئے بغیر، فقیروں میں صدقہ کرے اور فوت شدہ نمازوں کی قضاء کرے، کثرت سے درود شریف پڑھنے کا اہتمام کرے اور توبہ واستغفار کرتا رہے۔ لما فی روح المعانی: ’’((قل یعبادي الذين أسرفوا على أنفسھم)) أي: أفرطوا في المعاصي جانين عليھا وأصل الإسراف: الإفراط في صرف المال، ثم استعمل فيھا ذاك مجازا بمرتيين على ما قيل.... (( لا تقنطوا من رحمة الله)) أي: لا تيأسوا من مغفرته سبحانه ونفضله عزوجل، على أن المغفرة مدرجة في الرحمة‘‘. (سورة الزمر، 456/23، مؤسسة الرسالة) وفي الدر مع الرد: ’’(عليه ديون ومضالم جھل أربابھا وأليس) من عليه ذلك (من معرفتھم فعليه التصدق بقدرتھا من ماله وإن استغرقت جميع ماله) ھذا مذھب أصحابنا لا نعلم بينھم خلافا كمن في يده عروض... (و) في فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في العقبي)‘‘. ’’قوله: (كمن في يده) يشمل ما إذا كانت لقطة أو غضبا أو رشوة.... قوله: (سقط عنه المطالبة) كأنه والله تعالى أعلم. لأنه بمنزلة المال ايضائع والنقراء مصرفة عند جھل أربابه، وبالتوبة يسقط إثم الإقدام على الظالم‘‘. (كتاب اللقطة، 434/6، رشيدية) وفي الترغيب والترھيب: ’’عن أنس رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ((قال الله: يا ابن آدم إنك ما دعوتني و رجوتني غفرت لك على ما كان منك ولا أبالي، يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء، ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي، يا ابن آدم إنك لو أتيتني بقراب الآرض خطابا، ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لأتيتك بقرا بھا مغفرة‘‘. (كتاب الذكر والدعاء، 417/2، رقم الحديث:2509، مؤسسة الرسالة). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:
قرض کے احکام
مندرجہ بالا موضوع سے متعلق مزید فتاویٰ
