دارالافتاء

انعامی اسکیم میں کچھ افراد کو زائد رقم اوربقیہ کو اپنی اپنی رقم واپس کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص انعامی اسکیم اس انداز سے چلاتا ہے، مثلا : 100 لوگ اس میں شرکت کے لیے ایک ایک روپیہ جمع کرواتے ہیں، پھر ان 100 لوگوں میں سے 10 پر چیاں چنی جاتی ہیں، جن کے نام نکلتے ہیں، ان 10 لوگوں کو 5، 5 روپے انعام میں دیئے جاتے ہیں، باقی جن لوگوں کا انعام نہیں نکلتا ان کو ایک ایک روپیہ واپس کر دیا جاتا ہے۔ مثلا: 100 لوگوں کے ایک ایک روپے جمع کرنے سے 100 روپے جمع ہو گئے، 10 لوگوں کو انعام 5، 5 روپے دیئے گئے، یہ کل ہوئے 50 روپے، باقی جن کا انعام نہیں نکلا تھا، وہ 90 لوگ ہیں، ان کو ان کا ایک ایک روپیہ واپس کر دیا جائے، تو یہ 50 اور 90 ملا کر 140 روپے لوگوں کو دیئے گئے، مطلب اسکیم والے نے اپنی جیب سے 40 روپے بھرے اور وہ یہ پیسے اپنی رضا و خوشی سے بھرتا ہے، اس نیت کے ساتھ کہ شاید کسی حاجت مند کا بھلا ہو، اور اسکیم چلانے والا اس کے جواز کے لیے کہتا ہے کہ جس طرح پرائز بانڈز جائز ہیں اسی طرح یہ اسکیم بھی جائز ہے۔ کیا یہ طریقہ ازروئے شرع جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض دے کر اس پر نفع لینا حرام ہے، صورت مسئولہ میں لوگ انعامی اسکیم میں ایک ایک روپے اس امید پر جمع کرواتے ہیں کہ انہیں کچھ زائد رقم ملے گی، اور جن دس آدمیوں کو پانچ پانچ روپے دیے جاتے ہیں، وہ قرض پر نفع ہے، اس لیے اس طرح کی اسکیم چلانا نا جائز اور حرام ہے، تاہم اگر کسی حاجت مند کا بھلا کرنا چاہے، تو ان سے پیسے لیے بغیر ہی کر دیا کرے۔ یاد رہے کہ پرائز بانڈز بھی نا جائز ہے۔ لما في التنزيل: [وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللهِ]. (سورۃ الروم: 39) وفي إعلاء السنن: ”عن علي أمير المؤمنين مرفوعا: ((كل قرض جر منفعة فھو ربا))“. (باب كل قرض جر منفعة فھو ربا، رقم الحديث: 4858، 512/14، إدارة القرآن) وفيہ أيضا: ”وأما حديث كل ((قرض جر منفعة فھو ربا)) فبيانه أن المنفعة فيه عامة لكل منفعة.... وأما التي من جھة الإرجاح في الوزن والعدد فاتفقوا على حرمتھا، كانت مشروطة أو لا“. (رسالة كشف الدجى عن وجه الربا: 561/14، إدارة القرآن). فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: